Al-Risala · July 1985 · page 33

تیسرا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۳

انہوں نے مشترکہ اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے جس میں ۲۴۲ ممبران شریک تھے اور جو پاکستان کے نوکر اور باشندوں کے نمائندہ تھے کہا کہ جوں ہی نئی حکومت نے امورِ مملکت پر اپنی گرفت مستحکم کرلی تو مارشل لا کی چھتری فوری طور پر لپیٹ لی جائے گی۔ کیوں کہ ارکانِ اسمبلی اور سینٹ کی شکل میں اتنے سارے مسیحا اکٹھا ہو گئے ہیں تو یقیناً مریض بہت جلد صحت یاب ہو جائے گا اور مارشل لا کی کڑوی گولی کو ترک کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔ نفاذِ اسلام کی رفتار کو تیز کرنا ، اور عام آدمی کے روزمرہ کے مسائل ارکانِ شوریٰ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ عوام کی توقعات پر پوری اتریں گی اور قوم کو اتحاد، استحکام اور خوش حالی کی طرف لے جائیں گی ۔

اس تقریرکا ایک دلچسپ حصہ یہ تھا کہ ” صدر ضیاء الحق نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اس پر غور کرے کہ بیشتر ارکانِ اسمبلی قانونی حد سے کہیں زیادہ خرچ کر کے ایوان میں پہنچے ہیں“۔ (نوائے وقت لاہور ، ۲ مارچ ۱۹۸۵)

پاکستان میں مارچ ۱۹۸۵ میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مارشل لا حکومت کے تحت الیکشن کمیشن نے یہ ہدایت نامہ جاری کیا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو ۲۵ ہزار روپے اور قومی اسمبلی کے امیدواروں کو ۴۵ ہزار روپے تک انتخابی مہم پر صرف کرنے کی اجازت ہوگی (جنگ ۹ فروری ۸۵) مگر عملاً جو ہوا وہ یہ تھا کہ مہرین کے اندازے کے مطابق قومی اسمبلی کے امیدوار نے اوسطاً دولاکھ سے پانچ لاکھ روپے انتخابی مہم پر صرف کئے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کے امیدوار نے اوسطاً ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے انتخابی مہم پر صرف کیا (امرونہ ۴ مارچ ۱۹۸۵) ایک اندازہ کے مطابق ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے چار ہزار امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ اور انتخابی مہم پر مجموعی اعتبار سے چالیس کروڑ روپے خرچ کئے۔ اخبار حریت (۹ فروری ۱۹۸۵) کی ایک خبر میں بتلایا گیا کہ کراچی کے حلقہ نمبر ۱۸۹ میں قومی اسمبلی کے ایک مضبوط امیدوار کو پیشکش کی گئی کہ اگر وہ امیدواری سے دست بردار ہو جائیں تو انھیں پندرہ لاکھ روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔

پاکستان کے الیکشن کے دلچسپ پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ ”دین دار “افراد نے آپس میں سخت مقابلہ کیا جس کی وجہ سے دین پسند ووٹ بٹ کر ان کی طاقت کمزور ہو گئی۔ مثال کے طور پر کراچی کے حلقہ نمبر ۱۹ میں محمود اعظم فاروقی اور شاہ بلیغ الدین کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ اسی طرح لاہور میں مولانا ابوالاعلیٰ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page