Al-Risala · July 1985 · page 34

تیسرا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۴

مودودی کے صاحبزادہ اور جماعت اسلامی کے ایک رکن کے درمیان مقابلہ ہوا۔

پاکستان کے لوگوں کو بعض چیزیں قدرتی نعمت کے طور پر حاصل ہیں۔ یہاں کا جغرافیہ خاص طور پر پنجاب کا صحت اور زرعی پیداوار کے لئے نہایت موزوں ہے۔ سوئی گیس نے ان کے لئے ایندھن کے مسئلے کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ یہاں آدمی کو سلنڈر حاصل کرنے کے مشکل مراحل سے گزرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پانی کے پائپ کی طرح گھروں میں کوکنگ گیس کے پائپ لگے ہوئے ہیں۔ جتنا چاہے استعمال کردیجئے۔ اور میٹر کے مطابق قیمت ادا کیجئے ۔

ایک بار میں نے کچھ لوگوں سے پوچھا کہ سنا ہے کہ یہاں کوکنگ گیس کی افراط کی وجہ سے لوگ اپنے چولھے کو بالکل بند نہیں کرتے بلکہ کھانا پکانے کے بعد گیس کو کم کر کے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ دوسرے وقت انھیں دیا سلائی یا لا ئٹر جلانے کی زحمت نہ کرنی پڑے۔ ایک صاحب نے تصدیق کی۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ سارے لوگ ایسا نہیں کرتے۔ اور اس میں بہت کم گیس جلتی ہے۔ بس ذرا سی چراغ کی لو کی طرح۔ یہ حالی اس قوم کا ہے جس کے پیغمبر نے یہ تعلیم دی تھی کہ پانی میں بھی اسراف نہ کرو خواہ تم بہتے ہوئے دریا کے کنارے کیوں نہ ہو (ولو كنت عند نهرجار)

بعض پاکستانی حضرات نے بتایا کہ حکومت کی اطلاع کے مطابق یہاں پورے ملک میں ۵۵ ہزار مسجدیں ہیں۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ ’’میں نے خود کتنی مسجدیں دیکھی ہیں کہ وہ بند پڑی رہتی ہیں۔ پانچ وقت میں سے ایک وقت بھی وہاں نماز نہیں ہوتی‘‘۔ میں نے سوچا کہ غیر ملک کا محکمہ آثار قدیمہ اگر کسی مسجد کو بند کر دے تو فوراً اسلام خطرہ میں پڑ جاتا ہے ۔ اور خود اپنے ملک میں مسلمان اگر مسجد کو بند رکھیں تو اس سے اسلام کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔

اخبار میں ایک خبر یہ پڑھی کہ ۲۳ مارچ کو چنیو ٹ میں نماز استسقاء ادا کی گئی۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہاں کے ایک معمر بزرگ نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے کہ اس موسم میں قلتِ مطر پیش آیا ہے۔ پھر انھوں نے کہا کہ پہلے جب استسقائی نماز ہوتی تھی تو عوام امڈ پڑتے تھے۔ اب تو بہت کم لوگ استسقائی نماز میں آتے ہیں۔ یہ حال صرف پاکستان کا نہیں۔ آج تمام مسلم دنیا کا یہی حال ہو رہا ہے۔

یہاں گھروں اور دفتروں میں عام طور پر دو تصویریں ضرور ہوتی ہیں۔ مسٹر جناح اور علامہ اقبال

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page