توہم پرستی
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۵
توہم پرستی
امریکہ کی ری پبلکن پارٹی کے ایک عہدیدار مسٹر سیلر (Sayler) نے بتایا کہ امریکی صدر رونالڈ ریگن ہر وقت اپنی جیب میں ایک چھوٹی سی سونے کی نعل رکھتے ہیں۔ یہ نعل ان کو صدر بننے سے تقریباً پانچ سال پہلے ان کے ایک دوست نے دی تھی۔ صدر ریگن کو یقین ہے کہ اس سنہری نعل میں طلسماتی اثرات چھپے ہوئے ہیں۔ وہ ان کو ہر آفت سے بچاتی ہے۔ چنانچہ مارچ ۱۹۸۱ میں جب ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تو ان کے خیال کے مطابق اسی نعل نے ان کو اس سے محفوظ رکھا تھا۔
یہ نعل ہر وقت صدر ریگن کے ساتھ رہتی ہے۔ جون ۱۹۸۱ کی ایک ملاقات میں مسٹر سیلر نے ان سے پوچھا: کیا آپ اب بھی اس نعل کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔ صدر ریگن نے کہا: ہاں ضرور: I sure do اس کے بعد انھوں نے اپنی بائیں جیب میں ہاتھ ڈالا اور مذکورہ نعل نکال کر دکھائی ڈٹائمز آف انڈیا ، ،۲۴ جون ۱۹۸۱)
یہ بلاشبہ توہم پرستی (Superstition) ہے۔ مگر اس توہم پرستی کا ایک معلوم سبب ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ جو واقعات پیش آتے ہیں وہ ایسے پر اسرار ہوتے ہیں کہ آدمی پوری طرح ان کی توجیہہ نہیں کر پاتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ چھپے ہوئے عوامل ہیں جو کسی کو کامیاب اور کسی کو ناکام کر دیتے ہیں۔ کوئی شخص ایک نتیجہ سے دوچار ہوتا ہے اور کوئی شخص دوسرے نتیجہ سے۔ اور دونوں میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں نہیں بتا سکتا کہ اس کے ساتھ جو ہوا وہ کیوں ہوا۔ ایک بار میں نے ایک بڑے تاجر سے پوچھا کہ تجارت میں کامیابی کار از کیا ہے۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔ آخر میں کہا کہ "قسمت" اگر کوئی شخص اس کا تین سبب بتائے تو میں کہوں گا کہ قسمت، قسمت، قسمت ۔
یہ پر اسراریت اس لئے ہے کہ سب کچھ کرنے والا خدا ہے۔ مگر انسان چونکہ غیبی خدا کو دیکھ نہیں پاتا اس لئے وہ کسی نہ کسی دکھائی دینے والی چیز کو اپنا خدا بنا لیتا ہے۔ خواہ وہ سونے کی ایک نعل ہو یا پتھر کی ایک انگوٹھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues