خدا کی طرف سفر
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۴
حج کے فرائض کی ادائیگی کا مرکز بیت اللہ ہے جو م میں واقع ہے۔ بیت اللہ ایک بندہ خدا کی اس پوری مومنانہ زندگی کی یاد دلاتا ہے جس کے آغاز میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی تاریخ ہے اور جس کے اختتام پر نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ۔ بیت اللہ اس واقعہ کا ایک یادگاری نمونہ ہے کہ کس طرح اللہ کا ایک بندہ اللہ کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے۔ کس طرح وہ اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی میں ڈھال لیتا ہے۔ کس طرح وہ اللہ کے مشن میں اپنے آپ کو ہمہ تن لگا دیتا ہے یہاں تک کہ اسی حال میں اس کی موت آ جائے۔
خدا کی طرف سفر
حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے ۔ وہ دنیا کی زندگی میں اپنے رب سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے ۔ دوسری عبادتیں اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں ، جب کہ حج خود اللہ تعالیٰ تک پہونچ جاتا ہے ۔ عام عبادت اگر غیب کی سطح پر خدا کی عبادت ہے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت ہے ۔
حاجی جب کعبہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ایسا محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ خود رب کعبہ کے سامنے کھڑا ہوا ہے ۔ کعبہ کا طواف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے رب کو پاکر پروانہ وار اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ جب وہ ملتزم کو پکڑ کر دعا کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے گویا اس کو اپنے آقا کا دامن ہاتھ آ گیا ہے جس سے وہ بے تابا نہ لپٹ گیا ہے اور اپنی ساری بات اس سے کہہ دینا چاہتا ہے ۔
حج کی یہ خصوصیت اس لیے ہے کہ اس کے ادا کرنے کی جگہ ایک ایسا مقام ہے جہاں تجلیات الہی کا نزول ہوتا ہے ۔ جس کو خدا نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا کہ وہ خدا پرستانہ زندگی کے عظیم داعی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دینی عمل کا مرکز بنے ۔ جہاں اسلام کی بنیاد پر بننے والی تاریخ ثبت ہے ۔ جس کے ہر طرف اس مثالی ربانی انقلاب کے آثار پھیلے ہوئے ہیں جو خاتم النبیین کی رہنمائی میں چودہ سو سال پہلے واقع ہوا تھا ۔
اس قسم کی روایات اور خصوصیات نے دیارِ حرم کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے ۔ وہاں ایک خاص طرح کا روحانی اور تاریخی ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی وہاں جاتا ہے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔ آدمی حج ادا کرنے کے بعد اس طرح لوٹتا ہے جیسے کوئی گردو غبار میں لپٹا ہوا آدمی دریا میں نہا کر واپس آئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues