Al-Risala · August 1985 · page 5

عبادتوں کا سردار

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۵

حج کو اسلامی عبادات میں ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ایک حدیث میں اس کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ تاہم حج کی یہ خصوصی اہمیت اپنی روح کے اعتبار سے ہے نہ کہ محض اپنے ظاہر کے اعتبار سے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ محض دیار حرم میں جا کر واپس آجانے کا نام حج نہیں ہے بلکہ ان کیفیات کے حصول کا نام حج ہے جن کے لیے یہ فریضہ مقرر کیا گیا ہے۔ حج کے افضل عبادت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حج کو اس کی سچی روح اور صحیح آداب کے ساتھ ادا کرے اس کے لیے حج اس کی سب سے بڑی عبادت بن جائے گا۔

عبادتوں کا سردار

حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ آدمی جب سفر کر کے مقامات حج تک پہونچتا ہے تو اس پر خاص طرح کی ربانی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ ”اپنی دنیا“ سے نکل کر ”خدا کی دنیا“ میں پہونچ گیا ہے۔ وہ اپنے رب کو ڈھونڈ رہا ہے۔ وہ اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ وہ اس کی طرف دوڑ رہا ہے۔ وہ اس کی خاطر سفر کر رہا ہے۔ وہ اس کے حضور اپنی قربانی پیش کر رہا ہے۔ وہ اس کے دشمن کو کنکریاں مار رہا ہے۔ وہ اس سے مانگ رہا ہے جو کچھ وہ مانگنا چاہتا ہے۔ وہ اس سے پا رہا ہے جو کچھ اسے پانا چاہیے۔ کعبہ زمین کے اوپر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ وہاں بھٹکی ہوئی انسانی روحوں کا خدا کا آغوش دیا جاتا ہے۔ وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کئے جاتے ہیں۔ وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیات دکھائی جاتی ہیں۔ تاہم سب کچھ اس شخص کے لیے ہے جو اس کی استعداد لے کر وہاں جائے۔ بے استعداد لوگوں کے لیے حج بس ایک قسم کی سیاحت ہے۔ وہ صرف اس لیے وہاں جاتے ہیں تاکہ جیسے گئے تھے ویسے ہی دوبارہ واپس چلے آئیں۔

حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ الحج عرفة (عرفات کے میدان میں قیام حج ہے) اس سے عرفات کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حج کے زمانے میں عرفات کا میدان گویا حشر کے میدان کا منظر پیش کرتا ہے۔ ایک خاص تاریخ کو خدا کے بندے قافلہ در قافلہ چاروں طرف سے آتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یہ بڑا عجیب منظر ہوتا ہے۔ تمام لوگوں کے جسم پر ایک ہی سادہ لباس (احرام)

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page