حج کا پیغام
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۸
مارتا ہے۔ یہ اس عمل کی یادگار ہے جو حضرت اسماعیل نے شیطان کی طرف کنکریاں مار کر کیا تھا۔ جب کہ اس نے انہیں بہکانے کی کوشش کی۔ پھر تمام حاجی عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ اس عمل کی آخری صورت ہے جو لبیک اللھم لبیک کی صورت میں ہر حاجی کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ یہاں تمام حاجی کھلے میدان میں جمع ہو کر اپنے خدا سے اجتماعی عہد کرتے ہیں کہ وہ وہی کریں گے جس کا سبق انہیں حج کی صورت میں دیا گیا ہے۔ وہ اسی میں جئیں گے جس میں وہ لوگ جئے جن کی یادگار میں حج کی عبادت ادا کی جاتی ہے۔
حج کے مناسک کو قرآن میں شعائر کہا گیا ہے یعنی علامتی چیزیں۔ یہ سب دراصل حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان پر گزرنے والے واقعات ہیں جو مذکورہ منصوبہ الہی کی تکمیل کے دوران پیش آئے۔ ان واقعات کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے اور اس طرح یہ عہد کرتا ہے کہ وہ بھی اسی تاریخ کا جز بنے گا۔
حاجی گویا یہ عہد کرتا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو وہ اپنی دنیا کو جائز حق کی طرف بڑھے گا۔ وہ آرام و راحت کو چھوڑ کر قناعت اور سادگی پر اپنے آپ کو راضی کرے گا۔ وہ خدا کے لئے دوڑے گا اور خدا کے گرد گھومے گا۔ وہ شیطانی بہکاؤں کو پتھر مار کر اپنے سے دور بھگائے گا۔ خدا کا دین اس کو جہاں لے جائے وہاں وہ جائے گا۔ اور جس چیز کا تقاضا کرے گا اس کو وہ اس کے حوالے کر دے گا۔ وہ عمل کی زبان میں خدا سے کہتا ہے کہ اگر دوبارہ دین کے لئے ضرورت پیش آئی تو وہ اس آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہے کہ اپنی اولاد کو ذبح کر کے دین کی ضرورت پوری کرے۔
حضرت ابراہیم کا عراق سے چل کر کے آنا اور یہاں مذکورہ واقعات کا پیش آنا ایک عظیم خدائی منصوبہ تھا جو ڈھائی ہزار سال میں بروئے کار لایا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب سے پانچ ہزار سال پہلے انسانی ذہنوں پر شرک کا اتنا غلبہ ہو گیا تھا کہ زندگی کا کوئی شعبہ شرک سے خالی نہ تھا۔ یہ صورت حال نسل در نسل جاری رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی نسلوں میں شرک کا تسلسل قائم ہو گیا۔ اس زمانہ کی آبادیوں میں جو شخص بھی پیدا ہوتا وہ شرک کا ذہن لے کر پیدا ہوتا اور اسی پر اس کی پوری اٹھان ہوتی۔ اس بنا پر پیغمبروں کی توحید کی دعوت کسی طرح لوگوں کو اپیل نہیں کرتی تھی۔
اب خدا نے یہ منصوبہ بنایا کہ انسانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو مشرکانہ ماحول سے الگ ہو کر پرورش پائے تاکہ وہ مشرکانہ تسلسل سے آزاد ہو کر سوچ سکے۔ اس کے لئے شہری آبادیوں سے دور ایک غیر آباد مقام ہی مناسب ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے عرب کے خشک علاقہ کا انتخاب کیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues