حج کا پیغام
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۹
گیا جو اس زمانہ میں آباد دنیا سے الگ تھلک بالکل غیر آباد حالت میں پڑا ہوا تھا۔ اب اس بے آب و گیاہ علاقہ میں ایک نئی نسل تیار کرنے کے لئے وہ پہلا انسان درکار تھا جو موت کی قیمت پر وہاں بسنے کے لئے تیار ہو۔ اس نازک موقع پر حضرت ابراہیم کو خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے نوجوان بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ جسمانی ذبح حقیقۃً صحرائی ذبح کی تمثیل تھی۔ اس کے ذریعہ یہ دیکھنا مقصود تھا کہ کیا ابراہیم اس کے لئے تیار ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں اس طرح شامل کریں کہ اپنی محبوب اولاد کو لے جاکر حجاز میں بسادیں جہاں خشک پہاڑوں اور رتیلے صحراؤں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس زمانہ میں حجاز میں بسنا موت کی وادی میں بسنے کے ہم معنی تھا۔
قدیم زمانہ میں حجاز اس لئے غیر آباد پڑا رہا کہ وہاں پانی اور سبزہ نہ تھا۔ قدیم حجاز کا مشرکانہ تمدن سے پاک رہنا اسی لئے ممکن ہوا کہ وہ زندگی کے سامان سے خالی تھا۔ قدیم حجاز کی وہ خصوصیت جس نے اس کو مشرک انسانوں سے خالی رکھا تھا، اسی نے اس کو اس قابل بنا دیا کہ وہاں موحدین کی ایک نئی نسل تیار کی جائے۔ حضرت ابراہیم کا اپنے نوجوان بیٹے (اسماعیل) کے گلے پر چھری رکھنا اس بات کا اظہار تھا کہ وہ اس قربانی کے لئے آخری طور پر تیار ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کو اس منصوبہ خداوندی کے لئے چن لیا گیا اور ان کو قدیم حجاز کے الگ تھلک علاقہ میں بسا کر نئی نسل تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ حضرت ابراہیم نے اسماعیل کی نسل میں ایک پیغمبر پیدا ہونے کی دعا کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دعا کے نتیجے میں پیدا ہوئے ۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، دعا اور اس کی قبولیت کے درمیان ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ اس تاخیر کا سبب یہ ہے کہ اس مدت کے دوران وہ نسل تیار کی جارہی تھی جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہوکر سوچ سکے اور صحرائی تربیت کے نتیجہ میں جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ پیغمبر کا ساتھ دے کر اس مشن کو تکمیل تک پہنچاسکے۔ اسی لئے اس گروہ کو " خیر امت " کہا گیا۔ یہ امت تاریخ کی انوکھی امت ہے۔ ابتداً اگر ضرورت اس کی ایک تعداد پیغمبر کی دشمن ہوگئی۔ مگر جب اس کی سمجھ میں آگیا تو اس نے بھر پور طور پر آپ کا ساتھ دیا۔
اس طرح جو نسل بنائی گئی اس کے اندر اگرچہ بعد کو اطراف کی دنیا سے کچھ شرک کے اثرات آگئے۔ مگر بنیادی طور پر وہ ایک محفوظ نسل تھی۔ کچھ ناقص افراد کو چھوڑ کر وہ لوگ صحیح فطرت پر قائم تھے۔ انھوں نے ابتدائی پیغمبر کا مطالبہ بھی کیا۔ مگر اس کا سبب زیادہ تر ناگھی تھا۔ جب ان کی سمجھ میں آگیا کہ واقعی یہ پیغمبر ہیں اور ان کا دین برحق ہے تو ان کی مخالفت دوبارہ موافقت میں تبدیل ہوگئی۔ وہ بھر پور طور پر آپ کے ساتھی بن گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues