حج ذریعہ اتحاد
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۱۷
لئے تیار ہے۔ حضرت ابراہیم کا دعوتی مشن آخرت سے آگاہ کرنے کا مشن تھا، چنانچہ حاجی میدان عرفات میں جمع ہوکر میدان حشر کو یاد کرتا ہے تاکہ اس سب سے بڑی حقیقت کی یاد کو وہ اپنے ذہن کا جزو بنائے اور اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرے ۔ حضرت ابراہیم کو جب جب ان کے رب نے پکارا وہ فوراً حاضر ہو گئے اسی طرح حاجی اٹھتے بیٹھتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بار بار کہتا ہے : لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك (میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں ۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لئے ہے اور اقتدار میں تیرا کوئی شریک نہیں) اس طرح حاجی اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کی پکار پر ہر وقت حاضر ہونے کے لئے تیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیت اللہ دعوتِ اسلامی کا مرکز ہے اور حج اسلام کے داعیوں کا عالمی اجتماع۔ حج کے موقع پر جو افعال کئے جاتے ہیں وہ سب وہی ہیں جو حضرت ابراہیم کی دعوتی زندگی کی یادگار ہیں۔ حج کے مناسک انھیں واقعات کا تمثیلی اعادہ ہیں جو حضرت ابراہیم کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کے درمیان مختلف صورتوں میں پیش آئے ۔ حاجی بطور شعار (علامت) انھیں حج کے دنوں میں دہراتا ہے اور اس طرح اس بات کا عزم کرتا ہے کہ وہ اسی طرح داعی بن کر رہے گا جس طرح حضرت ابراہیم دنیا میں خدا کے داعی بن کر رہے۔ ان میں سے کچھ دعوتی زندگی کے براہ راست مرحلے ہیں اور کچھ بالواسطہ مرحلے ۔ حضرت ابراہیم کی زندگی بتاتی ہے کہ حج کے یہ مراسم ان کی دعوتی زندگی کا جزو یا ان کے دعوتی سفر کے مراحل تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے حج اور کعبہ کی زیارت محض ایک قسم کی سالانہ مذہبی رسم بن کر رہ گئی ہے۔ مسلمانوں میں اگر دعوتی شعور اور تبلیغی روح زندہ ہو تو حج کا اجتماع خود بخود دعوتی اہمیت اختیار کرلے گا اور سالانہ دعوتی کانفرنس کے ہم معنی بن جائے گا۔ مگر جب مسلمانوں میں دعوتی روح ختم ہو جائے تو حج اسی طرح ایک بے روح عمل بن کر رہ جاتا ہے جیسا کہ وہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان بنا ہوا ہے ۔ وہ پتھر کے شیطان پر کنکریاں پھینکتے ہیں مگر زندہ شیطان کو زیر کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے ۔ وہ علامتی اعمال کو دہراتے ہیں مگر حقیقی اعمال کی ادائیگی کے لئے ان کے اندر کوئی جذبہ نہیں بھڑکتا ۔
حج ذریعہ اتحاد
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا اختلاف و انتشار ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حج جیسا نادر اجتماعی ادارہ ان کے درمیان پوری طرح موجود ہے، اسی کے باوجود ان کے اندر باہمی اتحاد پیدا نہیں ہوتا ۔ حالانکہ حج اپنے سالانہ عالمی اجتماع کے ساتھ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے اتحاد کا ایسا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues