حج کی تاریخ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۱۶
حضرت سلیمان ، حضرت یحییٰ ، حضرت عیسیٰ وغیرہ۔ حضرت ابراہیم کے پوتے حضرت یعقوب کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ انھیں کی نسبت سے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ بعد کو جب بنی اسرائیل پر زوال آگیا اور پیغمبروں کی مسلسل فہمائش کے باوجود انھوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو خدا نے ہدایت آسمانی کے حامل ہونے کی حیثیت سے انھیں معزول کر دیا اور یہ مقدس منصب ابراہیمی نسل کی دوسری شاخ بنو اسماعیل کو دے دیا۔ یہ واقعہ عین اس وقت ہوا جب کہ دو ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں کے اندر ایک ایسی زندہ قوم تیار ہو چکی تھی جو خدا کے دین کی حامل بن سکے۔ اس تبدیلی کی ایک ظاہری نشانی کے طور پر قبلۂ عبادت بدل دیا گیا۔ حضرت ابراہیم کے بعد تمام انبیار بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے ۔ اب قدیم قبلہ کو منسوخ کر کے کعبہ کو قبلہ عبادت کی حیثیت دے دی گئی ۔ حج ایک دعوتی ادارہ حج ابراہیمی تاریخ کا اعادہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دعوت حق کی جو عالمی منصوبہ بندی کی گئی، اسی کے مختلف مراحل کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے اور اس طرح خدا سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسی ربانی مشن میں لگائے گا جس میں حضرت ابراہیم نے اپنے آپ کو لگایا، وہ ختم نبوت کے بعد نبوت کے کام کو اسی طرح جاری رکھے گا جس طرح خدا کے پاک پیغمبر نے اس کو انجام دیا۔
خدا کے دعوتی منصوبہ کی تکمیل کے لئے حضرت ابراہیم اپنے وطن سے نکلے، اسی طرح حاجی بھی اپنے وطن سے نکل کر زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ وہ دین کی خاطر بے وطن ہونے کے لئے تیار ہے۔ انھوں نے بالکل ساد اور معمولی زندگی پر قناعت کی اسی طرح حاجی احرام باندھ کر یہ عزم کرتا ہے کہ وہ صرف ناگزیر ضرورت پر اکتفا کر کے اپنی توجہ کو اصل مقصد کی طرف لگائے رہے گا۔ انھوں نے کعبہ کے گرد طواف کر کے خدا کے ساتھ اپنی وفاداری کو استوار کیا اسی طرح حاجی بھی کعبہ کا طواف کر کے خدا کا وفادار ہونے کا اعلان کرتا ہے ۔ دینی تقاضوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کے اہل خاندان پر یہ حالت گزری کہ پانی کی تلاش میں وہ صفا مروہ کے درمیان دوڑنے اسی طرح حاجی دونوں پہاڑوں کے درمیان سعی کر کے ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی خاطر وہ اس آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہے خواہ اس کے گھر والوں پر وہ کیفیت گزرجائے جو ہاجرہ اور اسماعیل پر گزری۔ حضرت ابراہیم کو شیطان نے خدا کے کام سے ہٹانے کی کوشش کی تو انھوں نے اس کے اوپر کنکریاں پھینکیں اسی طرح حاجی علامتی شیطان پر رمی کر کے اس ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ بھی شیطان کے ساتھ یہی سلوک کرے گا اگر اس نے اس کو ورغلایا۔ حضرت ابراہیم کو خدا کی خاطر بیٹے کی جان تک پیش کرنی پڑی اسی طرح حاجی جانور کو قربان کر کے یہ اعلان کرتا ہے کہ دین کی خاطر وہ قربانی کی حد تک جانے کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues