Al-Risala · August 1985 · page 19

حج کی تنظیم نو

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۱۹

تبلیغِ اسلام کو اپنا مشن بنالیا۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اور سارا اثاثہ دین کی اشاعت کی راہ میں لگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی وفات کے پچاس سال کے اندر اسلام قدیم آباد دنیا کے بڑے حصہ میں پھیل گیا۔

اب بھی حج باقاعدہ ادا کیا جاتا ہے اور "حجۃ البلاغ“ سے زیادہ بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے امام حج ہر سال اسی قسم کی باتیں دہراتا ہے جو پیغمبر اسلام نے چودہ سوسال پہلے کہی تھیں۔ مگر آج ان باتوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے حج ایک زندہ عمل تھا، آج وہ ایک روایتی عمل بن گیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے حج کے موقع پر جن لوگوں کو خطاب کیا تھا وہ اسی ارادہ اور عزم کے ساتھ درہاں جمع ہوئے تھے کہ ان کو جو ہدایت دی جائے اس کو انھیں پورا کرنا ہے۔ اس کے برعکس آج حاجیوں کی بھیڑ مکہ اور مدینہ صرف اس لئے جاتی ہے کہ وہ حج کے نام پر کچھ رسوم ادا کر کے واپس آجاتے ۔ اور جس حال میں پہلے تھی اسی حال میں دوبارہ رہنے لگے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کو ایک مؤثر عمل کی حیثیت سے زندہ کرنے کا کام سب سے پہلے ’’ حاجیوں ‘‘ کو زندہ کرنے کا کام ہے۔ جب تک حاجیوں ، با الفاظ دیگر مسلمانوں میں شعور بیدار نہ کیا جائے، حج کی عبادت اسی طرح بے اثر رہے گی جیسے ایک غیر صالح بندوق جس کی لبلبی دبائی جائے مگر اس کے باوجود وہ فائر نہ کرے۔

حج کی تنظیم نو

حج کو دوبارہ اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کرنا یہ ہے کہ اس کو دعوتی ادارہ کی حیثیت سے زندہ کیا جائے ۔ حج کو دعوتِ اسلامی کی عالمی منصوبہ بندی کا مرکز بنا دیا جائے۔ اس بین اقوامِی موقع پر ہر ملک کے لوگ اپنے ملک کے دعوتی حالات پیش کریں۔ ایک جگہ کے لوگ دوسری جگہ کے تجربات کو جانیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ حج کے خطبات میں دعوت کی اہمیت اور اس کے جدید مواقع کی وضاحت کی جائے۔ حج کے ادارہ کے تحت مختلف زبانوں میں مؤثر دعوتی لٹریچر تیار کرنے کا انتظام کیا جائے اور اس کو عالمی سطح پر پھیلایا جائے ۔ وغیرہ تاہم یہ بھی اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ حج کی نئی رخ بندی خود مسلمانوں کی زندگی کی نئی رُخ بندی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ مسلمان کی اصل ذمہ داری شہادت علی الناس ہے۔ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ مگر مسلمان موجودہ زمانہ میں اس حقیقت کو بالکل بھول گئے ہیں۔ انھوں نے ساری دنیا میں غیر مسلم اقوام کو اپنا مادی حریف اور قومی فریق بنا رکھا ہے۔ حج کو دعوتی ادارہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page