Al-Risala · August 1985 · page 20

حج کی تنظیم نو

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۲۰

طاقت ور ذریعہ ہونا چاہئے جس میں تمام اختلافات نکل کر رہ جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حج موجودہ حالت میں صرف ایک قسم کارروائی ، ہجوم بن کر رہ گیا ہے نہ کسی عظیم مقصد کے حاملین کا زندہ اجتماع ۔ اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا مشترک مقصد موجود ہو جوان کی تو جہات کو بلند تر نصب العین کی طرف لگادے۔ اگر ایسا کوئی بڑا مقصد سامنے موجود نہ ہوگا تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں گے اور بڑے بڑے اجتماعات کے باوجود مجتمع اور متحد نہ ہوں گے ۔ دعوت، امت مسلمہ کا یہی عظیم مقصد ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر دعوتی جذبہ ابھر آئے تو اچانک پوری امت ایک بڑے نشانہ کی طرف متوجہ ہو جائے گی ۔ اس کے بعد حج کا اجتماع اپنے آپ مسلمانوں کے درمیان عالمی اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور اسی کے ساتھ اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بھی ۔ حج ایک زندہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنہ میں آخری حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی موجودگی میں آپ نے ۹ ذی الحجہ کو میدان عرفات میں ایک مفصل خطبہ دیا جو خطبۂ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کے اس حج کو حجتۃ البلاغ بھی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ اس میں آپ نے اسلام کی تمام بنیادی تعلیمات کو امت تک پہنچا کر اس سے اس کا عہد لیا تھا۔ چنانچہ خطبہ کے آخر میں یہ الفاظ آتے ہیں :

الا فلیبلغ الشاهد الغائب ۔ فرب مبلغ خبر دار، جو موجود ہیں وہ میری بات کو غیر موجود تک اوعی من سامع ۔ وانتم تسألون عنی ماذا پہنچا دیں۔ کیونکہ پہنچائے جانے والے اکثر سننے والوں انتم قائلون - قالوا نشهد انك قد سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں ، اور تم سے اديت الامانة وبلغت الرسالة و میرے بارے میں پوچھا جائے گا پھر تم کیا جواب دو گے ۔ نصحت فقال رسول الله صلى الله لوگوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے امانت عليه وسلم باصبعه السبابة يرفعها ادا کردی اور پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا الى السماء وينكتها الى الناس : اللهم کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی آسمان اشهد اللهم اشهد کی طرف اٹھائی اور پھر لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اے اللہ تو گواہ رہ ، اے اللہ تو گواہ رہ ۔

اس واقعہ کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی ۔ اس وقت تک اسلام عملاً عرب کے ملک تک پھیلا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب عرب سے باہر نکلے ۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page