Al-Risala · August 1985 · page 30

حج کی تنظیم نو

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰

کی حیثیت سے زندہ کرنے کے لئے سب سے پہلے مسلمانوں کو دعوتی گروہ کی حیثیت سے زندہ کرنا ہوگا مسلمانوں کو اس کے لئے آمادہ کرنا ہوگا کہ دنیا بھر میں وہ اپنی ان قومی سرگرمیوں کو ختم کر دیں جو ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کی فضا پیدا نہیں ہونے دیتیں۔ اگر آپ کے اور دوسری قوموں کے درمیان معتدل فضا نہ ہو تو آپ کس کو تبلیغ کریں گے اور کون آپ کی تبلیغ کو سنے گا۔

پھر اس مقصد کے لئے ضرورت ہے کہ اعملیٰ درجہ کی تبلیغی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں، جن کا نصاب اور نظام کامل طور پر دعوت پر رکھی ہو۔ ایسے ادارے قائم کئے جائیں جہاں لوگوں کی تربیت داعیانہ انداز سے کی جائے ۔ ایسا لٹریچر تیار کیا جائے، جو ایک طرف لوگوں کے اندر دعوتی ذہن بنائے اور دوسری طرف ان کو دعوتی معلومات سے مسلح کرے ۔ حتیٰ کہ اس کے لئے ضرورت ہے کہ اسلام کا جدید بنیادی لٹریچر دوبارہ تیار کیا جائے۔ کیونکہ موجودہ زمانہ میں تفسیر قرآن اور سیرت رسول پر جو کتا بیں تیار ہوئی ہیں وہ زیادہ تر ردعمل کی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہیں، وہ غیر قوموں کے فکری اور علی حملوں کے جواب کے طور پر وجود میں آئیں نہ کہ دعوت اسلام کی مثبت وضاحت کے لئے۔

اب سے چودہ سو سال پہلے مکی دور میں چلے جائیے تو آپ دیکھیں گے کہ اسلام کا پیغمبر تنہا کعبہ کا طواف کر رہا ہے۔ اس وقت اسلام ایک فی دنیا کی تعداد کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر آج ہر دن کثرت سے لوگ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور حج کے زمانہ میں ساری دنیا کے لاکھوں انسان اس طرح ہجوم کر کے مکہ آتے ہیں کہ مسجد حرام کی مسلسل توسیع کے باوجود ہر سال اس کی عمارت ناکافی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تعداد کی یہ کثرت کیسے ممکن ہوئی، جواب یہ ہے کہ دعوت کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ حج کا عالمی اجتماع اسلام کی دعوتی قوت کا ایک سالانہ مظاہرہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اسلام کی دعوتی قوت ہی میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام ترقیوں کا راز چھپا دیا ہے ۔ اسی میں اہل اسلام کی دنیوی نجات بھی ہے اور اسی میں ان کی اخروی نجات بھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کی قوت ہمیشہ دعوت رہی ہے۔ ابتدائی دور میں اسلام اگر چہ مکہ کے عوام کو متاثر نہ کر سکا، مگر وہ سارے قیمتی افراد مکہ کے ابتدائی دور ہی میں ملے جو بعد کو اسلام کی تاریخ کے ستون قرار پائے ۔ یہ صرف اسلامی دعوت کا نتیجہ تھا کیونکہ اس وقت اسلام کے پاس کوئی دوسری قوت موجود ہی نہ تھی۔ بعد کو مکہ کے جو لوگ اسلام لائے وہ بھی اسلام کی نظریاتی برتری سے متاثر ہو کر اسلام لائے، مثلاً عمر و بن العاص اور خالد بن الولید وغیرہ۔

دوسرے مرحلہ میں مدینہ میں اسلام کا مستحکم ہونا بھی دعوت ہی کے ذریعہ عمل میں آیا۔ مدینہ پر کبھی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page