Al-Risala · August 1985 · page 9

میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کے لئے رہنماء

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۹

کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ صرف چند لوگ اسلام کے داعی بن کر مدینہ پہنچے، وہاں انھوں نے سادہ انداز میں اسلام کی دعوت شروع کی۔ اس کے نتیجہ میں لوگ جوق در جوق مسلمان ہونے لگے۔ یہاں تک کہ وہ نوبت آئی کہ مدینہ اسلام کا فکری اور عملی مرکز بن گیا۔

بعد کے دور میں مغلوں اور تاتاریوں کا مسئلہ اسلام کے لئے پیش آیا۔ یہ وحشی قو میں گھوڑوں پر سوار ہو کر تیر اور تلوار لئے ہوئے مسلم ملکوں پر ٹوٹ پڑیں اور ان کے طاقتی مراکز کو زیر و زبر کر ڈالا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام کی تاریخ اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح اس سے پہلے بہت سی تہذیبوں کی تاریخ پیدا ہوئی اور ختم ہو گئی۔ مگر عین اس وقت اسلام کی دعوتی طاقت ابھری اور اس نے سارے مسئلہ کو اس طرح حل کر دیا کہ خود فاتح قوموں کو اسلام کا جز بنا دیا۔ حج اور بیت اللہ ایک عظیم دعوتی منصوبہ بندی کی علامت ہیں۔ حضرت ابراہیم کی آواز جب عراق اور شام اور مصر کے متمدن علاقوں میں نہیں سنی گئی تو آپ نے خدا کے حکم سے اپنی اولاد کو لاکر مکہ میں بسایا اور یہاں کعبہ کی تعمیر کی تاکہ وہ ہدایت الہیٰ کے مستقل مرکز کے طور پر کام دے: إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًاوَّ پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہ وہی ہے جو مکہ هُدًى لِلْعَالَمِينَ (آل عمران (۹۶)

میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کے لئے رہنماء

عمر بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الدِّينَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْحِجَازِ كَمَا تَأْرِزُ دین حجاز کی طرف سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّينُ من بل کی طرف سمٹ آتا ہے اور دین حجاز کے ساتھ الْحِجَازِ مَعْقِلَ الْأُرُوِيَّةِ مِنْ رَأْسِ باندھ دیا جائے گا جس طرح بکرے کو پہاڑ کے الْجَبَلِ ۔ ان الدين بد أ غريبا و سيعود تھان پر باندھ دیا جاتا ہے ۔ دین شروع ہوا تو وہ كما بدا، فطوبى للغرباء وهم الذين يصلحون اجنبی تھا۔ وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا تو اجنبیوں کو ما افسد الناس (اخرجه الترمذي )

مبارک ہو۔ یہی لوگ ہیں جو اس وقت لوگوں کی اصلاح کریں گے جب کہ وہ بگڑ جائیں ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حجاز دعوت اسلامی کا مرکز بنا اسی طرح آئندہ بھی جب دین لوگوں کے اندر سے گم ہو گا تو دوبارہ حجاز ہی خدا کے دین کو زندہ کرنے کا مرکز بنے گا۔ حج کا مقام خدا کی عبادت کا مقام بھی ہے اور خدا کے دین کی دعوت و تجدید کا مرکز بھی۔ ضرورت ہے کہ آج حج اور حج کے مراکز کو دوبارہ اسی حیثیت سے زندہ کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page