Al-Risala · August 1985 · page 32

رسول اللہ کا حج

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۳۲

کا طواف (طواف الوداع) کیا اور وہیں فجر کی نماز ادا کی ۔ اس کے بعد قافلہ کو سفر کا حکم دیا۔ سب لوگ اپنے اپنے مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ مہاجرین اور انصار کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مکہ میں داخل ہونے سے لے کر نکلنے تک آپ کا قیام کل دس دن رہا۔ جب ذو الحلیفہ (مدینہ کے قریب) پہنچے تو آپ ٹھہر گئے اور رات یہاں گزری۔ صبح کو طلوع آفتاب کے وقت مدینہ میں داخل ہوئے۔ جب آپ کی نظر سواد مدینہ پر پڑی تو آپ نے تین بار تکبیر کہی اور فرمایا :

الله اكبر لا اله الا الله وحده لاشريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شئ قدير - آئبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون ۔ صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحدہ ۔

اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں وہ اکیلا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے۔ اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹ رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے۔ سجدہ کرتے ہوئے۔ اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا۔ اور اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے تمام گروہوں کو تنہا شکست دی۔

حضرت اسامہ بن شریک کہتے ہیں کہ منی میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ کوئی شخص کہتا کہ اے خدا کے رسول، میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی۔ کوئی کہتا کہ میں نے رمی جمار سے پہلے حلق کرالیا۔ کسی نے کہا کہ میں نے پہلے قربانی کی اور اس کے بعد رمی کیا۔ اسی طرح لوگ مختلف مسائل پوچھتے رہے۔ آپ اس قسم کے سوالات کے جواب میں فرماتے افعل ولا حرج ، افعل ولا حرج (کر لو، کوئی حرج نہیں۔ کر لو کوئی حرج نہیں) حرج کی بات تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ اسی نے حرج والا کام کیا یربِ مدویِ ام۔ اپ۔ جاں رب... اور ہلاک ہواد، بخاری ، مسلم ، ابوداؤد) کونسل کے تمام ارکان کے دستخط موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page