Al-Risala · August 1985 · page 31

رسول اللہ کا حج

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱

ہو جائے گا۔

اس کے بعد آپ منیٰ میں مقامِ نحر (قربانی کی جگہ) پر گئے۔ یہاں آپ نے ترسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ۔ آپ کی عمر بھی ۶۳ سال ہوئی ۔ اس کے بعد آپ رکے اور حضرت علی سے کہا کہ سو اونٹ میں جو تعداد باقی ہے اس کو تم پورا کر دو۔ قربانی سے فارغ ہو کر آپ نے معمر بن عبد اللہ (حجام) کو بلایا اور اپنے بال منڈائے جس کو حلق کہا جاتا ہے اور ناخن کتروائے۔ عورتوں کو آپ نے صرف تقصیر (بال کتروانے) کا حکم دیا۔ مونڈنے سے منع فرمایا۔ اس کے بعد آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ نحر بانی مقام نحر کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی کی جاسکتی ہے۔ قربانی کا گوشت آپ نے تھوڑا سا پکا کر کھایا اور بقیہ سب خیرات کر دیا۔ آپ نے لوگوں سے کہا کہ قربانی کا گوشت کھاؤ اور کھلاؤ اور جب تک چاہے اس کو سکھا کر رکھو۔

۱۰ ذی الحجہ کو آپ مکہ پہنچے۔ یہاں آپ نے ظہر سے پہلے طواف افاضہ کیا جس کو طواف زیارت بھی کہا جاتا ہے۔ اس طواف میں آپ نے رمل اور اضطباع نہیں کیا اور نہ سعی کی۔ اس کے بعد آپ زمزم کے کنویں کے پاس آئے اور کھڑے ہو کر زمزم پیا۔ اس وقت حسب دستور خاندانِ عبد المطلب کے لوگ پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہے تھے۔ اس کے بعد آپ اسی روز منیٰ کے لئے واپس ہو گئے ۔ رات آپ نے منیٰ میں گزاری۔

اگلے روز ۱۱ ذی الحجہ کو آپ منیٰ میں سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب زوال کا وقت آیا تو آپ سواری سے اتر کر رمی جمار کے لئے گئے۔ پہلے آپ نے جمرہ اولیٰ پر ایک کے بعد ایک سات کنکریاں ماریں ۔ اس کے بعد کچھ دیر تک دعا کرتے رہے۔ اور پھر جمرہ وسطیٰ پر اسی طرح کنکریاں ماریں ۔ اس کے بعد پھر کچھ دیر تک دعا کرتے رہے۔ ہر کنکری پر آپ اللہ اکبر فرماتے رہے۔ اس کے بعد جمرۃ العقبہ کے قریب جاکر اس کو سات کنکریاں ماریں۔ پھر آپ وہاں سے ہٹ گئے۔

اس کے بعد ۱۲ ذی الحجہ اور ۱۳ ذی الحجہ (ایامِ تشریق کے تینوں دن تک) آپ منیٰ ہی میں رہے۔ منیٰ میں آپ نماز قصر بغیر جمع پڑھاتے رہے۔ ۱۳ ذی الحجہ کو زوال کے بعد مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ آپ نے وادی محصب (ابطح) کے ایک خیمہ میں قیام کیا۔ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کی نمازیں یہیں پڑھیں۔ رات کو یہیں آرام کیا۔ رات کو پچھلے پہر اٹھ کر حرم گئے اور کعبہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page