Al-Risala · August 1985 · page 39

حج میں کیا نہ کریں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۳۹

مل جل کر رہنے میں لوگوں کو ایک دوسرے کی جس چیز سب سے زیاوہ سابقہ پیش آتا ہے وہ زبان ہے۔ ایک شخص کو دوسرے شخص سے سب سے زیادہ تکلیف زبان ہی سے پہنچتی ہے۔ حج کے زمانہ میں بیک وقت بہت سے لوگوں کا ساتھ ہو جانے کی وجہ سے بار بار یہ موقع آتا ہے کہ آدمی کی زبان بے قابو ہو جائے اور ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان کو ٹھیس پہنچے۔ چنانچہ حج کے موسم کو خصوصیت سے اس کی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ زبان سے کسی کو تکلیف پہنچا نا عام دنوں میں اسلامی اخلاقیات کا ایک جزو ہے۔ مگر حج کے دنوں میں اس کو اسلامی عبادات کا لازمی جزو بنا دیا گیا تا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اہتمام کر کے اپنے کو اس سماجی برائی سے بچائیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : حج کے چند معلوم مہینے (شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ) ہیں۔ جو شخص ان مہینوں میں اپنے اوپر حج مقرر کرے تو پھر حج میں نہ کوئی فحش بات ہو اور نہ بد کلامی، اور نہ جھگڑا اور تکرار کیا جائے (بقرہ، ۱۹۷) زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی یہی تین خاص صورتیں ہیں۔ آدمی فحش باتیں اپنی زبان سے نکالتا ہے، جو دوسروں کے لئے دل خراشی کا باعث ہوتی ہیں ۔ وہ دوسرے کو برے الفاظ سے یاد کرتا ہے اور اس کے بارے میں نازیبا کلمات بول کر اس کو بے آبرو کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ بات چیت کے دوران تکرار اور سخت کلامی پر اتر آتا ہے۔ یہ تمام چیزیں حج میں بالکل حرام کر دی گئیں ۔ تا کہ ان کے بارے میں آدمی کی حساسیت بڑھ جائے اور جب وہ حج کے مقدس سفر سے لوٹے تو اس کے اثر سے اس کی زبان ہمیشہ کے لئے ان چیزوں سے محفوظ ہو چکی ہو۔ حج کے لئے احرام باندھنے کے بعد خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حاجی کے لئے حرام ہے۔ حتیٰ کہ شکار کئے ہوئے جانور کا گوشت بطور ہدیہ قبول کرنا، پرند کا پر اکھاڑنا، شکار میں مدد دینا، شکار کے جانور کو ذبح کرنے کے لئے چھری دینا، وغیرہ سب حاجی کے لئے حرام ہیں۔

حج کے دوران میں حاجی کسی موذی جانور مثلاً سانپ کو مار سکتا ہے۔ یا دہ قربانی کے جانور کو ذبح کرتا ہے جو حج کے مراسم کا ایک جزو ہے۔ اس کے علاوہ کسی جانور کو مار نا یا اسے تکلیف دینا حرام ہے۔ جانور کا شکار عام حالات میں بالکل جائز ہے مگر حج کے دوران شکار کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ دراصل ایک شرعی حکم پر مبالغہ کے ساتھ عمل کرانا ہے۔ آدمی پر یہ فرض ہے کہ وہ انسان کو نہ مارے، وہ کسی جان دار کو نہ ستائے۔ یہ شریعت کا ایک عام حکم ہے جو ہر آدمی سے ہر حال میں مطلوب ہے، مگر حج کے دوران اس کو شکار کے جانوروں تک وسیع کر کے اس حکم کے بارے میں آدمی کے احساس کو تیز کیا جاتا ہے تا کہ حج سے واپسی کے بعد وہ زیادہ اہتمام کے ساتھ اس کی تعمیل کر سکے۔

اسلامی زندگی کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھ کر زندگی گزاری جائے ۔ حج کے سفر کو اس قسم کی پابند زندگی کے لئے خصوصی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے ۔ حج کی یہ حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے: جس شخص نے حج کے مراسم اس طرح ادا کئے کہ مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئے جائیں گے (مَنْ قَضَی نُسُکہ وِسْلِم المسلمون

‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues

Printed page