حج میں کیا نہ کریں
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۴۰
من لسانه ويدلا غفر له ما تقدّم من ذنبه، تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرہ) گویا حج کا فریضہ ادا کرتے ہوئے حاجی کو جس چیز سے خاص طور پر بچنا ہے وہ یہ کہ اس کی زبان سے کسی بندہ خدا کے دل کو ٹھیس نہ لگے۔ اس کے ہاتھ سے کسی انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ جو حج آدمی کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے وہ وہی حج ہے جس سے آدمی اس قسم کی زبان اور اس قسم کا ہاتھ لے کر واپس آیا ہو۔
حج کے دوران لذت اور آرائش کی چیزوں کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ حج کا عمل احرام سے شروع ہوتا ہے۔ احرام ایک سادہ لباس (ایک سفید تہمد اور ایک سفید چادر) ہے جو حرم کے حدود میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی اور زائر کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ احرام گویا ایک قسم کا فقیرانہ لباس ہے جو زیارت کعبہ کے لئے پہنا جاتا ہے۔ یہ پہلی علامتی تدبیر ہے جس کے ذریعہ سے خدا اپنے بندوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ سارے انسان برابر ہیں۔ جن ظاہری چیزوں کی بنیاد پر لوگ ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں یا کسی کو اونچا یا کسی کو نیچا سمجھتے ہیں وہ سب خدا کی نظر میں سراسر باطل ہیں۔ خدا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے حج کے زمانہ میں لاکھوں حاجی ایک قسم کا لباس پہننے کی وجہ سے بالکل ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ گویا حج کا احرام اسلام کے اس اصول کا ایک عملی مظاہرہ ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ جو لوگ خدا کے اچھے بندے بننا چاہتے ہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ ہر قسم کے دوسرے لباس" اپنے اوپر سے اتار دیں اور سب مل کر ایک ہو جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حاجی کون ہے۔ آپ نے فرمایا پراگندہ بال اور غبار آلود" ان الفاظ میں اصلی حاجی کی تعریف بتائی گئی ہے۔ الجھے ہوئے بال اور گرد سے اٹا ہوا جسم با مقصد آدمی کی پہچان ہے۔ جب کوئی شخص پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے آپ کو کسی خاص کام کے لئے وقف کر دے تو اس کو آرائش و زیبائش کی فرصت نہیں رہتی۔ حج میں بالقصد اس قسم کا حلیہ بنانے کا حکم گویا با مقصد زندگی گزارنے کا ایک تاکیدی سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدائی مقصد میں اپنے آپ کو اس حد تک مشغول کرے کہ اس کو اپنے ظاہر کو بنانے اور سنوارنے کی سُدھ نہ رہے۔ وہ وقتی لذتوں کو بھول جائے۔ برتر مقصد کو پانے کی دھن میں اس کو اپنے ذاتی تقاضے یاد نہ رہیں. حج کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: اور تم سفر حج میں تقویٰ کا زاد راہ لو، بہترین زاد راہ تقویٰ کا زاد راہ ہے۔ اے عقل والو اللہ سے ڈرو (بقرہ ۱۹۷)
قدیم عرب میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج کے لئے زاد راہ لے کر نکلنا دنیا دارانہ فعل ہے، جو شخص حج کے لئے اس طرح نکلے کہ وہ دنیا کا سامان لئے بغیر حج کے سفر پر چل پڑا ہو وہ بڑا پارسا اور دین دار خیال کیا جاتا تھا۔ ایسے لوگ اپنے بارے میں کہتے کہ ہم متوکل ہیں (نحن المتوکلون) ہم خدا کے سوا کسی چیز پر بھروسہ نہیں کرتے۔ مگر قرآن میں یہ بتایا گیا کہ اس قسم کی ظاہری نمائش کا نام دین داری نہیں ہے۔ دین داری کا تعلق دل اور ذہن سے ہے نہ کہ کسی قسم کے خارجی مظاہرہ سے۔ آدمی کو جس چیز سے بچنا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا دل اور اس کا ذہن غیر اللہ کے ڈر سے خالی ہو، : یہ کہ اس کی جھولی میں کوئی کھانے پینے کا سامان نظر نہ آتا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues