اللہ کا ذکر
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲
اللہ کا ذکر
ذکر کے معنی یاد کے ہیں۔ اللہ کے ذکر کا مطلب ہے اللہ کی یاد۔ یہ یاد کوئی مصنوعی چیز نہیں وہ اللہ کی معرفت کا لازمی اور قدرتی نتیجہ ہے۔
جب کوئی آدمی اللہ کو اس کی عظمتوں اور قدرتوں کے ساتھ پاتا ہے تو اس کے اندر ایک روحانی ہلچل پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد اس کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ اس کو ہر وقت اللہ کی یاد آتی رہتی ہے۔ یہ یاد کبھی دل کے اندر تڑپ بن کر ظاہر ہوتی ہے اور کبھی زبان سے حمد اور شکر اور خشیت کے الفاظ کی صورت میں بے ساختہ نکل پڑتی ہے۔ اسی کیفیت کو اللہ کی یاد کہا جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اتھاہ خلا میں ستاروں اور کہکشاؤں کی حرکت پر غور کرتا ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ وہ خدا بھی کیسا عظیم خدا ہو گا جو اتنے بڑے کارخانے کو اتنی صحت کے ساتھ متحرک کیے ہوئے ہے ۔ کبھی وہ درختوں اور پہاڑوں اور دریاؤں کے پرکشش مناظر کو دیکھتا ہے اور ان کے حسن اور معنویت کا ادراک کر کے حیران رہ جاتا ہے۔ آدمی کو اس کے گرد و پیش کی چیزیں بار بار اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اس کے اندر اللہ کی یاد کو جگاتی رہتی ہیں ۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی حالت پر غور کرتا ہے تو اس کو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے۔ وہ بے تابانہ اپنے رب سے معافی مانگنے لگتا ہے۔ وہ خدا سے کہتا ہے کہ وہ اس کو آخرت کے عذاب سے بچائے۔ اور اس دن اپنی رحمتوں کے سایہ میں داخل کرے جب کہ خدا کی رحمت کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہ ہو گا جہاں آدمی پناہ لے سکے ۔ کبھی آدمی اپنے عجز اور بے چارگی کو دریافت کرتا ہے اور بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ خدایا تو قادر مطلق ہے تو اپنی قدرت سے میرے عجز کی تلافی فرما۔
انسان کے دل میں انہیں ربانی احساسات کا پیدا ہونا اور ان احساسات کا الفاظ کی صورت میں ڈھل جانا، اسی کا نام ذکر ہے ۔ ذکر اللہ کی یاد ہے، سب سے بڑی حقیقت کی یاد ۔ جو چیز سب سے بڑی حقیقت کی یاد ہو اس کا تجربہ بھی سب سے بڑا تجربہ ہوتا ہے ۔ اس تجربہ کا کسی کے دل پر گزرنا اتنا بڑا واقعہ ہے جس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues