کائناتی وحدت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳
کائناتی وحدت
کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پوری کائنات ایک مرکز کے گرد گھوم رہی ہے ۔ ایٹم کا ایک نیوکلئس ہے ۔ اور ایٹم کا پورا ڈھانچہ اس نیوکلئس کے گرد گھومتا ہے ۔ شمسی نظام کا مرکز سورج ہے اور اس کے تمام سیارے اور سیارچے مسلسل اس کے گرد گھوم رہے ہیں ۔ اسی طرح کہکشاں کا ایک مرکز ہے اور کہکشاں کے اربوں ستارے اس مرکز کے گرد حرکت کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ پوری کائنات کا ایک مرکز ہے اور پوری پھیلی ہوئی کائنات اپنی ذیلی حرکتوں کے ساتھ اس آخری مرکز کے گرد حرکت کر رہی ہے ۔
سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ کائناتی مرکز ایک روز اپنے گرد کی تمام چیزوں کو کھینچنا شروع کرے گا اور پھر یہ ناقابلِ قیاس حد تک پھیلی ہوئی عظیم کائنات اپنے مرکز کی طرف سمٹنا شروع ہوگی اور بالآخر وہ وقت آئے گا کہ سارے کائناتی اجسام اس طرح سمٹ کر ایک مرکزی گولے کی صورت اختیار کر لیں گے جیسے بکھری ہوئی کیلوں کے درمیان مقناطیس لایا جائے اور سب کیلیں سمٹ سمٹ کر اس سے جڑ جائیں ــ كما بد أنا اول خلق نعیدہ اس طرح کائنات گویا دینِ توحید کا عملی مظاہرہ بن گئی ہے ۔ وہ عمل کی زبان میں بتا رہی ہے کہ انسان کی زندگی کو کیسا ہونا چاہیے ۔ انسان کی زندگی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا صرف ایک مرکز ہو ، اور وہ ایک خدا ہو۔ آدمی کے جذبات ، اس کی سوچ ، اس کی سرگرمیاں ، اس کا سب کچھ خدا کے گرد گھومنے لگیں ۔
آدمی اگر اپنی زندگی کا مرکز و محور اپنی ذات کو بنائے تو کائنات بزبانِ حال اس کو رد کر رہی ہے ۔ اسی طرح اگر وہ اپنی ذات کے باہر کسی کو اپنی توجہات کا مرکز و محور بنائے تو موجودہ کائنات کے ڈھانچہ میں وہ قابلِ رد قرار پا رہا ہے ۔ کائنات کا موجودہ ڈھانچہ ایک ہستی کے سوا کسی دوسرے کی مرکزیت کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے ۔
کائنات زبانِ حال سے کہہ رہی ہے کہ ــــ "ایک" کو اپنا مرکز توجہ بناؤ نہ کہ ایک کے سوا "کئی" کو ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues