Al-Risala · September 1985 · page 10

مانگنا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۰

مانگنا

جاء رجل من الانصار الى النبي صلى الله عليه وسلم فسأله فقال النبي أما في بيتك شيء قال بلى، جلس (ای ککاء غلیظ) نلبس بعضه ونبسط بعضه و عقب نشرب فيه الماء - قال الرسول أنتني بهما، فأتاه بهما - فأخذ الرسول بيده وقال من يشتري هذين قال رجل انا آخذ هما بدرهم قال رسول الله من يزيد على درهم - قال رجل انا آخذهما بدرهمين - فاعطاہما اياه واخذ الدرهمين فأعطاما الانصاري وقال اشتر با حدہما طعاماً فانبذه الى اهلك واشتر بالاخر قدوماً وائتني به - فأتاه به فشد الرسول فيه عوداً بيده ثم قال اذهب فاحتطب وبع ولا ارينك خمسة عشر يوماً - ففعل وجاء وقد اصاب عشرة دراهم فاشترى ببعضهما ثوباً و ببعضهما طعاماً - فقال رسول الله ، هذا خير لك من ان تجئ المسألة نكتة فى وجهك يوم القيامة - انصار میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سوال کیا۔ آپ نے فرمایا کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں اس نے کہا ہاں، ایک موٹا کپڑا ہے جس کا کچھ حصہ ہم اوڑھتے ہیں اور کچھ حصہ بچھاتے ہیں اور ایک بڑا پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔ وہ لے آیا۔ آپ نے ان کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا کہ کون شخص ان دونوں کو خریدتا ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ میں ان کو ایک درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ کون ایک درہم پر اضافہ کرتا ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ میں ان کو دو درہم میں لیتا ہوں۔ آپ نے دونوں چیزیں اسے دے دیں اور اس سے دو درہم لے کر انصاری کو دے دیا اور فرمایا کہ ان میں سے ایک درہم سے کھانے کی چیز خریدو اور اسے اپنے گھر والوں کو دیدو اور دوسرے درہم سے کلہاڑی خریدو اور اس کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ آدمی کلہاڑی لے کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اس میں لکڑی سا دستہ لگایا پھر فرمایا کہ جاؤ اور لکڑی کاٹو اور بیچو اور میں تم کو پندرہ دن تک نہ دیکھوں۔ آدمی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ آیا اور اس نے دس درہم کمایا تھا۔ اس نے اس کے ایک حصہ سے کپڑا خریدا اور ایک حصہ سے خوراک خریدی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page