مانگنا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱
عن ثوبان رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تكفل لى ان لا یسئل الناس شياً واتکفّل له بالجنة فقلت انا - فكان لا يسئل أحداً شيئاً البپردور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم سوال کرو اور قیامت کے دن اپنے چہرہ پر ایک داغ لے کر آؤ۔
حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگے گا اور میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: میں ( ) پر پَروں یہ پڑی ہے ۔
پس حضرت ثوبان کا یہ حال تھا کہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔
اس قسم کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ " سوال " اسلامی روح کے سراسر خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی محنت پر بھروسہ کرے نہ کہ وہ دوسروں سے مانگنے لگے۔ حتیٰ کہ گھر کا اثاثہ بیچ کر محنت کے میدان چاہیئے کہ روکا جائے۔ آپ کی توجہ پر ضروریہ بات ہے کہ مرہ ٹاردو میں داخل ہونا پڑے تو یہ بھی آدمی کو کرنا چاہئے۔ سوال ہے۔ سربینہ کا نمک جو فرد کو دکھایا گیا ہے وہ بارگاہِ رسالت مآبؐ میں پیش کرتا ہے۔ آپؐ برستے بدن ں ہى جماعت کے لئے بھی ہے مسلمانوں کی ایسی کوئی قوم، ایسی عنوان کے پر ہیز کا علم جو فر دوز دنیا کیا ہے وہی حمایت نے کے بھی ہے۔ مسلمانوں کو ایسی ٹوٹی پھوٹی جس کی بنیاد مانگ اور مطالبہ پر رکھی جائے وہ سرا سر غیر اسلامی ترا پائے گی۔ مسلمانوں کو جس طرح اپنی انفرادی زندگی میں مانگنے کے بجائے محنت کرنے پر بھروسہ کرنا ہے اسی طرح اجتماعی زندگی میں بھی انھیں یہ کرنا ہے کہ خود اپنے وسائل کی بنیاد را اپنا قومی منصوبہ بنائیں۔ دوسروں سے مانگنے کے بجائے تور کرنے کے یہ رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بیوہ پریاپوں حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کریں۔
"وہ قومی اور تسلط کا وحی پکا ہنا د'", موجب ہے۔ پاورد کروں کے مقابلے میں ٹاورزت طلالات “ میں لکھ گئے رقوم کی تاریخ کے سے شام پر کہا جائے گا ہر وہ قومی پالیسی باطل ہے جس کی بنیاد مطالبات پر رکھی گئی ہو۔ کوئی بھی عذر اس کی اجازت نہیں دیتا کہ مسلمان جد و جہد کا طریقہ چھوڑ کر مطالبات کا طریقہ اختیار کر لیں۔ مسلمان اگر ایسا کریں کہ وہ اپنی قومی پالیسی مطالبات کی بنیاد پر بنائیں تو یہ خدا اور رسول کے طریقہ کے سراسر خلاف ہوگا۔ مطالبا تی سیاست بلاشبہ غیر مسنون سیاست ہے۔ مسلمان چھوٹے چھوٹے معاملہ میں مسنون اور غیر مسنون کا فرق جانتے ہیں اور اس کا زبر دست اہتمام کرتے ہیں۔ مگر بڑے بڑے معاملات میں انھوں نے اپنی پوری قومی سیاست کو غیر مسنون طریقہ پر چلا رکھا ہے اور انھیں اس کا احساس تک نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues