نہیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴
ممکہ والوں کے سرداروں نے جب اس کو دیکھا تو کہا:
واللہ ان هذة المكيدة ما كانت العرب تكيدها خدا کی قسم یہ ایک ایسی تدبیر ہے جس تدبیر کو عرب سیرۃ ابن هشام، الجزء الثالث، صفحه (۳۴۰) استعمال نہیں کرتے تھے۔
اس واقعہ میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بھی عرب تھے اور وہ لوگ بھی عرب تھے جنہوں نے مکہ سے آکر آپ کے اوپر چڑھائی کی تھی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ممسلمانوں کو ایسا شخص مل گیا جو ان کو فارسی خندق کا طریقہ بتائے۔ اور مکہ کے مشرکین کو فارسی خندق کا طریقہ بتانے والا نہیں ملا۔
اس فرق کی وجہ دعوت تھی۔ مشرکین مکہ کا معاشرہ ایک جامد معاشرہ تھا۔ اس میں باہر سے کوئی اضافہ ممکن نہ تھا۔ جب کہ مسلمانوں کا معاشرہ ایک اضافہ پذیر معاشرہ تھا جس میں ہر آن تبلیغ کے ذریعہ مزید انسانی صلاحیتیں شامل ہوتی جا رہی تھیں۔ اسلام کا یہی خاص ایڈوانٹیج تھا جس کی بنیاد پر اس کو ایک سلمان فارسی مل گیا جو اس کو فارسی طریقہ بتائے۔ اس کے برعکس مشرکین مکہ کسی سلمان فارسی کو نہ پاسکے جو ان کو عرب سے باہر کے طریقوں کی خبر دے۔
تاریخ کی کتابوں میں یہ دونوں واقعات الگ الگ لکھے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کا خندق سے باخبر ہو کر مدینہ کے گرد خندق کھودنا۔ اور مشرکین کہ کا خندق کی تدبیر سے بے خبر رہنا۔ ان دونوں واقعات کو الگ الگ پڑھئے تو آپ کو ان سے کوئی نصیحت نہیں ملے گی۔ مگر جب ان دونوں واقعات کو مربوط کریں، جب ان کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھیں تو اچانک ایک عظیم سبق کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہ کہ دعوت اس دنیا میں سب سے بڑی قوت ہے۔ وہ اپنی قوت پر دوسروں کی قوت کا اضافہ ہے۔
دعوت کے بغیر معاشرہ ایک جامد چٹان ہے۔ مگر دعوت کے اضافہ کے بعد معاشرہ ایک سیلاب بن جاتا ہے۔ ایسا سیلاب جو بڑھتا ہی رہے۔ ایسا سیلاب جو سارے جغرافیہ ارضی میں پھیل جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues