Al-Risala · September 1985 · page 13

دعوت کی کرامت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۳

دعوت کی کرامت

غزوہ خندق ۵ھ میں پیش آیا۔ ابوسفیان کی سرداری میں دس ہزار مسلح آدمیوں نے مدینہ کو گھیر لیا۔ یہ بڑا سخت موقع تھا۔ اسی کے لئے قرآن میں آیا ہے کہ جب آنکھیں پھرگئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے (الاحزاب (۱۰) مدینہ میں گھبراہٹ کا یہ عالم تھا کہ ایک مسلمان کی زبان سے نکل گیا: کان محمد یعدنا ان مناكل كنور كسرى وقيعر محمد ہم سے وعدہ کرتے تھے کہ ہم کسری اور قیصر کے واحدنا اليوم لا يأمن على نفسه ان يذهب خزانے حاصل کریں گے اور حال یہ ہے کہ ہم میں الى الغائط (سيرة النبي لابن هشام، الجزء سے ایک شخص بیت الخلا جانے کے لئے بھی مامون الثالث صفحه (۲۳۸)

نہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ اور امن ہر حال میں دشمن کی سرگرمیوں کی خبر معلوم کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ جب یہ عظیم فوج مکہ سے روانہ ہوئی تو مدینہ میں آپ کو اس کی خبر ہوگئی۔ آپ نے لوگوں کو مشورہ کے لئے جمع کیا، اور ان سے پوچھا کہ بتاؤ ایسی حالت میں اپنے بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے۔ اس وقت حضرت سلمان فارسی نے مشورہ دیا کہ مدینہ کے کنارے خندق کھودی جائے۔ مدینہ کے ایک طرف کھجوروں کے گھنے باغات نے قدرتی دیوار قائم کر رکھی تھی۔ شمال مشرق سے شمال مغرب تک کا حصہ کھلا ہوا تھا۔ اسی حصے میں خندق کھودی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ خندق کی لمبائی تقریباً پانچ ہزار ہا تھ تھی۔ گہرائی سات ہاتھ سے دس ہاتھ تک اور چوڑائی تقریباً دس ہاتھ۔

ابن کثیر نے طبری اور سہیلی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ پہلا شخص جس نے خندق کھودی وہ فارس کا بادشاہ منو چہر بن فریدوں تھا۔ وہ حضرت موسیٰ کا ہم عصر تھا۔ حضرت سلمان فارس کے رہنے والے تھے مشورہ کے وقت انھوں نے بتایا کہ اے خدا کے رسول ، اہل ایران کا یہ طریقہ ہے کہ جب گھوڑ سوار لشکر کے حملہ کا ڈر ہوتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ کے لئے خندق کھودتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند فرمایا اور خود صحابہ کے ساتھ شریک ہو کر خندق کھودی۔

" خندق " کا لفظ اصلاً فارسی سے آیا ہے۔ اس کی اصل کندہ (کھودا ہوا) ہے۔ کندہ سے کندک اور خندک بنا جو عربی زبان میں خندق ہو گیا۔ اس وقت تک اہل عرب میں یہ طریقہ بالکل غیر معروف تھا۔ چنانچہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page