انانیت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸
انانیت
حافظ ابو خیثمۃ زہیر بن حرب النسائی (م ۱۴۳ھ) کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن خازم نے کہا۔ ان سے اعمش نے کہا اور ان سے شفیق نے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ، خدا کی قسم جو شخص لوگوں کے ہر سوال پر فتویٰ دے وہ پاگل ہے ( واللہ ان الذی یفتی الناس فی کل ما یسألونه لمجنون ، کتاب العلم صفحه (۸)
اس قول کی زد ان لوگوں پر پڑتی ہے جن کا حال یہ ہو کہ ان سے جو بھی سوال کیا جائے وہ اس پر فوراً ایک شرعی فتوٰی دے دیں۔ ایسے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے اندر انانیت تھی۔ وہ اپنے سوا کسی کو صحیح نہیں سمجھتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قول کے اندر جو زور بیان ہے وہ بات کا ہے نہ کہ ذات کا۔ حضرت عبداللہ کا مقصود اس انداز کلام سے یہ تھا کہ حق کا حق ہونا بتائیں نہ کہ خود اپنا بر سر حق ہونا۔
ایک ہے حق کو حق سمجھنا۔ دوسرا ہے اپنے آپ کو حق سمجھنا۔ حضرت عبداللہ کا جملہ پہلی چیز کی مثال ہے نہ کہ دوسری چیز کی مثال ۔ مگر جو نادان ہیں۔ جو باتوں کی نزاکت کو نہیں سمجھتے وہ اس کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ " عبد اللہ " کو اپنے علم کا گھمنڈ ہو گیا تھا اس لئے انھوں نے دوسروں کو پاگل قرار دے دیا۔
اصل یہ ہے کہ جب ایک آدمی اپنے آپ کو صدقنی صدق کے ساتھ وابستہ کر دے۔ وہ حق کے نفع اور نقصان کو اپنا نفع اور نقصان سمجھنے لگے تو اس کی اپنی ذات اس کی نظر میں حذف ہو جاتی ہے۔ وہ بعض اوقات انتہائی شدید الفاظ بولتا ہوادکھائی دیتا ہے۔ مگر اس کی یہ شدت تمام تر حق کے لئے ہوتی ہے نہ کہ اپنی ذات کے لئے۔ وہ حق کی صداقت کا اعلان کرنے والا ہوتا ہے نہ کہ اپنی ذات کا اعلان کرنے والا۔ مگر جو لوگ صرف ظاہر کو جانتے ہیں وہ اظہار حق کے کلام کو اظہار خویش کا کلام سمجھ لیتے ہیں۔ وہ سیدھی بات کو الٹا مفہوم پہنا دیتے ہیں۔ بیان کرنے والا خدا کی یکتائی بیان کرتا ہے اور لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ خود اپنی یکتائی بیان کر رہا ہے۔ بولنے والا حق کی عظمت کا اعلان کر رہا ہوتا ہے اور لوگ یہ گمان کر لیتے ہیں کہ وہ خود اپنی عظمت کا اعلان کر رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues