Al-Risala · September 1985 · page 19

شاعری

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۹

شاعری

مولانابدرالدین چاچی ایک فارسی شاعر گزرے ہیں۔ ان کے قصائد کا مجموعہ چھپ چکا ہے۔ نمونہ کے طور پر ایک شعر ملاحظہ ہو:

آنچه برمن رفت گربر اشتراں رفتی زغم می زدندنے کافراں برجنبت الماوی علم قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ کافر جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ چلا جائے (الاعراف ۴۰) مذکورہ شعر اسی آیت کے اوپر لکھا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو بے پناہ صدمات اور غم مجھے اٹھانے پڑے ہیں وہ صدمات اور غم اگر اونٹوں کو پیش آتے تو اونٹ جیسا بڑا جانور گھل گھل کر اتنا دبلا ہو جاتا کہ وہ سوئی کے ناکے میں داخل ہو کر اس سے نکل جاتا۔

پھر جب یہ واقعہ ہوتا کہ اونٹ سوئی کے ناکے کے اندر چلا جائے تو وہ رکاوٹ باقی نہ رہتی جو آیت میں مذکور ہے۔ اس کے بعد تو کافر بھی جنت میں پہنچ کر اپنا جھنڈا گاڑ دیتے۔ اونٹ کے سوئی کے ناکے سے پار ہونے کے بعد یہ تعلیق خود بخود اٹھ جاتی اور محال ممکن ہو جاتا۔

فارسی شاعری اور اس کے اثر سے اردو شاعری زیادہ تر اسی قسم کے مضامین سے بھری ہوئی ہے۔ دور از کار مبالغوں اور فرضی تک بندیوں کا دوسرا نام فارسی اور اردوشاعری ہے۔ اسی شاعری کے بطن سے وہ نثر نکلی جس کو خطیبانہ نثر کہا جا سکتا ہے۔

بعد کے دور میں اسی قسم کے شاعر اور ادیب و خطیب قوم کے لیڈر بن گئے۔ انھوں نے پوری قوم کے مزاج کو ویسا ہی بنا دیا جس کا ایک نمونہ اوپر کے شعر میں نظر آتا ہے۔ اب لوگ لفظی تک بندیوں سے معنوی نتائج کی امید کرنے لگے۔ تشبیہہ اور ترکیب سے ثابت ہو جانے کو یہ اہمیت دینے لگے گویا کہ فی الواقع بھی وہ بات ثابت ہو گئی ہے۔ جوش کلام کو جوش عمل کا ہم معنی سمجھ لیا گیا۔ الفاظ کے زور پر حقائق کے قلعے فتح ہونے لگے۔ ردیف و قافیہ کے زور پر اونٹ کو سوئی کے ناکے سے پار کر دیا گیا۔ مگر جب ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ ابھی تک وہ سوئی کے ناکے کے باہر کھڑا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page