ناقص استدلال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳
ناقص استدلال
منشی امیر اللہ تسلیم اودھ کے نواب واجد علی شاہ کے ہم عصر تھے۔ ان کا شمار دربار کے شاعروں میں ہوتا تھا۔ اودھ کی مسلم سلطنت ختم ہونے کے بعد وہ رام پور چلے گئے۔ اور اس زمانہ کے شعر و پسند حلقے میں کافی مقبول ہوئے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک عیسائی نے ایک بار ان کو ایک مصرعہ دیا اور کہا کہ آپ اس پر دوسرا مصرعہ لگائیے۔ عیسائی کا مصرعہ یہ تھا:
دین احمد کا گھٹے دین مسیحا بڑھ جائے
منشی امیر اللہ تسلیم نے برجستہ دوسرا مصرعہ لگا کر عیسائی کو لاجواب کر دیا۔ منشی امیر اللہ تسلیم کا مصرعہ یہ تھا: گر براق نبوی سے خر عیسٰی بڑھ جائے یہ ایک دلچسپ مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور کس طرح تجزیاتی استدلال کے طریقہ سے بے خبرہے۔ منشی امیر اللہ تسلیم کا یہ تقابل صحیح نہیں۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ رسول اللہ کے آسمانی سفر کا تقابل حضرت مسیح کے زمینی سفر سے کر رہے ہیں۔ حالانکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آسمانی سفر کا تقابل آسمانی سفر سے اور زمینی سفر کا تقابل زمینی سفر سے کیا جائے۔
پیغمبر اسلام نے معراج کے وقت براق کے ذریعہ آسمانی سفر کیا تھا ۔ اسی طرح یہ ثابت ہے کہ حضرت مسیح کا آسمان کی طرف زندہ رفع ہوا۔ یہ "رفع " یقیناً کسی غیر معمولی سواری" کے ذریعہ ہوا۔ دوسری طرف سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ جس طرح حضرت مسیح گدھے پر بیٹھے اسی طرح پیغمبر اسلام نے بھی گدھے پر سفر فرمایا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آسمانی سفر میں دونوں پیغمبروں کی سواری براق تھی اور زمینی سفر میں دونوں پیغمبروں نے گدھے کی سواری استعمال فرمائی۔
صحیح استدلال وہی ہے جو منطقی تجزیہ میں پورا اترے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمان تجزیاتی استدلال سے اتنے بے خبر ہیں کہ ان کے انتہائی بڑے بڑے مصنفین اور مفکرین کے یہاں بھی اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔
ہندوستان میں برطانی حکومت کے دور میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں مناظرے ہوا کرتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues