بے معنی بحثیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۲
بے معنی بحثیں
امام غزالی (۵۰۵ - ۴۵۰ ھ) مشہور ترین حکماء اسیلام میں سے ہیں۔ وہ معلم اور متکلم بھی تھے اور اس کے ساتھ صوفی بھی۔ ان کی کتابوں میں احیاء علوم الدین ایک معرکتہ الآراء کتاب سمجھی جاتی ہے۔
امام غزالی نے عربی ترجموں کی مدد سے یونانی فلسفہ کا مطالعہ کیا اور اس کے بعد اپنی کتاب تہافت الفلاسفہ لکھی۔ انھوں نے فلسفہ ارسطو حسب تشریح ابن سینا سے ۲۰ مسئلے منتخب کئے ۔ ان میں سے تین مسئلے ان کے نزدیک ایسے تھے جو کفر بواح کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی بنا پر انھوں نے بعض مسلم فلسفیوں کی تکفیر کی۔ ۱۰۵۶ھ کا واقعہ ہے ۔ شاہ جاں نے ہندوستان سے اپنا ایک سفیر شاہ ایران کی خدمت میں روانہ کیا۔ ان کا نام جہاں نثار خان تھا۔ ان کے ساتھ محمد فاروق اور محب علی نامی دو اشخاص اور تھے یہ دونوں معقولات کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔
اس وقت ایران کا جو وزیر تھا وہ بھی معقولات کا بہت بڑا عالم تھا۔ اس کی نسبت سعد اللہ خاں علامی نے لکھا ہے کہ اعلم العلما رآں دیار است۔ یعنی وہ اس علاقہ کا سب سے بڑا عالم ہے۔ محمد فاروق اور محب علی کو اپنے فضل و کمال کا بہت دعویٰ تھا۔ چنانچہ وہ شاہ ایران کے دربار میں بلائے گئے اور ایرانی وزیر سے ان کا مناظرہ ہوا۔ وزیر نے پوچھا کہ امام غزالی نے مسائل ثلاثہ (قدم عالم اور نفی علم باری بجزئیات مادیہ اور انکار حشر اجساد) کی بنا پر ابونصر فارابی اور شیخ بو علی سینا کو کافر قرار دیا ہے ۔ اور دوسرے گروہ نے ان حکماء کے کلام کی توجیہہ و تاویل کی ہے۔ آپ لوگ اس بارہ میں کیا کہتے ہیں ۔ مذکورہ دونوں اشخاص اس سوال کا جواب نہ دے سکے۔ سعد اللہ خاں علامی کے الفاظ میں:
مدعیان دروغ چوں شمع کشته بے فروغ ماندند
یعنی علم کے جھوٹے دعویدار بجھے ہوئے چراغ کی طرح بے فروغ ہو کر رہ گئے ( الدرۃ الثمینۃ) شاہ جہاں کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب کہ دنیا ایک دور سے نکل کر دوسرے دور میں داخل ہونے جارہی تھی۔ مگر عین اسی زمانہ میں مسلمان لایعنی بحثوں میں مبتلا تھے۔ وہ ایسے معاملات کو جیت اور ہار کا معاملہ سمجھتے تھے جن کا جیت اور ہار سے کوئی تعلق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues