Al-Risala · September 1985 · page 29

اتحاد

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۹

کثیر الاطراف سمجھوتے کی اس ناکام کوشش کے بعد پینٹ کیکش "

ذکر کیا جاتا ہے :

عبد اللہ بن حذافہ کو کسریٰ کے نام سلیط بن عمرو ہوذہ بن علی العلاء بن الحضرمی منذر بن ساوی عمرو بن العاص جیفر و عباد دحیہ کلبی قیصر روم شجاع بن وہب اسدی منذر بن الحارث عمرو بن امیہ الضمری نجاشی المہاجر بن ابی امیہ الحارث بن عبد کلّال جریر بن عبد اللہ البجلی ذو الکلاع الحمیری حاطب بن ابی بلتعہ المقوقس صلے حدید کا یہ عظمہ اللہ تعالیٰ نے (مقرر کیا) اس نے اسلام کو جگہ کے مگر ایران یمامہ بحرین عمان شام غسان حبشہ یمن اطرافِ یمن مصر دوسرے ممالک کی دعوت صلح حدیبیہ کا یہ عظیم الشان فائدہ تھا کہ اس نے اسلام کو جنگ کے محدود میدان سے نکال کر دعوت کے وسیع تر میدان میں پہنچا دیا۔ جنگ کے اعتبار سے اسلام قبائلی سرداروں کے مقابلہ میں بھی فیصلہ کن نہیں بن رہا تھا مگر دعوت کے میدان میں آتے ہی اسلام کی عظمت کا یہ حال ہوا کہ وہ شاہانِ عالم کے مقابلہ میں بھی اقدام کی پوزیشن میں تھا۔ مگر اسلام کو اس تسخیری میدان میں لانے کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ یک یہ کہ داعی اور مدعو کے درمیان تمام مادی اور سیاسی جھگڑوں کو ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ ختم کر دیا جائے۔ تاکہ سننے اور سنانے کی معتدل فضا پیدا ہو۔ دوسری لازمی شرط داعی گروہ کا آپس کا اتحاد ہے تاکہ وہ طاقت حاصل ہو جو دعوت کا عمل مؤثر طور پر جاری کرنے کے لئے ضروری ہے۔ آج بے شمار مسلمان "یوم فتح مکہ " منانے کے لئے بے قرار دکھائی دی۔ تے ہیں۔ مگر " نوم صلم صدمہ "

ان بے شمار مسلمان "یوم صلح حدیبیہ" منانے کے لئے بے قرار دکھائی دیتے ہیں۔ محرومیم حدیبیہ منانے کا شوق کسی کو نہیں۔ کیوں کہ صلح حدیبیہ ایک ایسا عمل ہے جو صبر کی قیمت مانگتا ہے۔ اور صبر کی قیمت دینے کے لئے کوئی تیار نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page