امکانات
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰
امکانات
وزیر اعظم ہند مسٹر راجیو گاندھی نے جون ۱۹۸۵ میں امریکہ کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر امریکہ میں ” فیسٹول آف انڈیا “ کا اہتمام کیا گیا۔ وہاں جو مختلف پروگرام کئے گئے ان میں سے ایک کی نگراں مس مورا موائنی ہن تھیں۔ ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمس (۸جون ۱۹۸۵) میں مس مورا موائنی ہن کی ایک تصویر چھپی ہے۔ امریکی خاتون ایک ہندوستانی لڑکی کو اپنے پاس بٹھاتے ہوئے ہیں۔ تصویر کے نیچے جو مضمون درج ہے اس کی چند سطریں یہ ہیں : Maura Moynihan, who is fluent in Hindi, is one of the project coordinators for Aditi. Maura's father, Dr. Daniel Patrick Moynihan, is a former U.S. ambassador to India. یعنی مورا موائنی ہن جو کہ روانی کے ساتھ ہندی بولتی ہیں وہ آدیتی پروگرام کی نگرانوں میں سے ایک ہیں۔ مورا ڈاکٹر ڈینیل پیٹرک موائنی ہن کی صاحبزادی ہیں جو کہ امریکہ کی طرف سے ہندوستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔
یہ واقعہ ہندوستان میں ایک نئے دور کی آمد کی علامت ہے۔ آزادی سے پہلے ہندوستان میں جو مغربی اشخاص آئے تھے ان کے بارے میں عام طور پر یہ پڑھنے میں آتا ہے کہ وہ رواں اردو بولتے تھے۔ اب مغرب کے جو افراد ہندوستان آکر کچھ دن قیام کرتے ہیں ان کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ روانی کے ساتھ ہندی بولتے ہیں۔
آزادی سے پہلے مختلف تاریخی اسباب کی بنا پر یہ حال تھا کہ اردو بولنے والی قوم کو ممتاز درجہ حاصل تھا۔ باہر سے آنے والے لوگوں سے اس کا کافی ربط رہتا تھا۔ اردو زبان اور اردو قوم کی اہمیت اس وقت اتنی مسلم تھی کہ مغرب سے آنے والے لوگ اپنی کامیابی کے لئے ضروری سمجھتے تھے کہ وہ اردو زبان سیکھیں۔
اب صورت حال بدل گئی ہے۔ اردو بولنے والی قوم آزاد ہندوستان میں ہر لحاظ سے غیر اہم
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues