Al-Risala · September 1985 · page 33

اسلوبِ بیان

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۳

اسلوبِ بیان

غزوہ تبوک بڑے سخت حالات میں ہوا تھا۔ کچھ مسلمان اس میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں یہ آیت اتری :

ما كان لا هل المدينة ومن حولهم من الاعراب مدینہ والوں اور اطراف میں رہنے والے دیہاتیوں ان يتخلفوا عن رسول الله ولا يرغبوا بانفسهم کے لئے زیبا نہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دیں، عن نفسه (التوبة)

اور نہ یہ کہ اپنی جان کو رسول کی جان سے عزیز سمجھیں۔

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک مفسرِ قرآن لکھتے ہیں:

فھو ان كان في ظاهرہ عاماً الا انہ خاص جہاد کے لئے نکلنے کا یہ حکم اگر چہ بظاہر عام ہے مگر حقیقتہً بمن كان قادر اً على حمل السلاح وصد وہ اس شخص کے لئے خاص ہے جو ہتھیار اٹھانے پر قادر طغيان العدو۔ ولیس لہ من العذر ما يمنعه ہو اور دشمن کی سرکشی کو روک سکتا ہو۔ اس کے لئے کوئی من الخروج ایسا عذر نہ ہو جو اس کو میدانِ جنگ کی طرف نکلنے سے روکے۔

اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ وہ جو بات فرما رہا ہے وہ خاص معنی میں ہے نہ کہ عام معنی میں۔ یعنی اس سے صاحبِ استطاعت افراد مراد ہیں نہ کہ سارے ہی افراد۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے قانونی اور منطقی زبان اختیار نہیں فرمائی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانونی اور منطقی زبان دعوتی مقصد کے لئے کار آمد نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ کون مجھے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ لوگوں سے سوال نہیں کرے گا اور میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں“۔ بظاہر اس حدیث میں نہ ایمان کا ذکر ہے اور نہ عبادت کا۔ حالانکہ دونوں ضروری ہیں۔ مگر یہ کوئی کمی کی بات نہیں۔ کیوں کہ یہ دعوتی اور اصلاحی کلام ہے نہ کہ فقہی اور منطقی کلام۔

قانونی اور منطقی زبان میں اگر چہ قطعیت زیادہ ہوتی ہے، مگر یہ قطعیت اس قیمت پر حاصل کی جاتی ہے کہ دعوتی زور گھٹ جائے۔ داعی کا مقصد دلوں کو جھنجھوڑنا اور دماغوں کو متحرک کرنا ہے۔ اس لئے اس کے لئے دعوتی زبان ہی مفید ہے نہ کہ قانونی اور منطقی زبان۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page