Al-Risala · September 1985 · page 32

واقفیت کی کمی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۲

واقفیت کی کمی

مالکم فوربس (Malcolm Forbes) کا ایک بہت با معنی قول ہے۔ اس نے کہا کہ مسئلہ کا حل پیش کرنا ان لوگوں کے لئے بہت آسان ہے جو مسئلہ کے بارے میں بہت کم واقفیت رکھتے ہوں: انسان کی اجتماعی زندگی میں جب ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی حیثیت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کانٹوں کے ڈھیر میں آدمی کے دامن کا الجھ جانا۔ ایسی حالت میں اگر آدمی بے سوچے سمجھے کھینچ تان شروع کر دے تو دامن اور زیادہ الجھ جائے گا اور اگر اس سے نکلے گا بھی تو پھٹ کر نکلے گا۔ ایسی حالت میں ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے کہ برداشت سے کام لیا جائے۔ صورت حال کا پورا اندازہ کرکے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی جائے۔

مگر جو شخص دور کھڑا ہوا ہو، جس کو صورت حال کی نزاکت کا پورا اندازہ نہ ہو وہ بے تکان بولے گا اور برجستہ حل پیش کرتا چلا جائے گا۔

اجتماعی زندگی ایک بے حد پیچیدہ چیز ہے۔ اجتماعی زندگی میں یہ ممکن نہیں ہوتا کہ آدمی بس یک طرفہ کارروائی کرنے لگے۔ اجتماعی زندگی میں اپنی اور دوسروں کی قوت کے تناسب کا اندازہ کرنا پڑتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں یہ کوشش کرنی پڑتی ہے کہ آخری حد تک دوسروں کے ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کیا جائے۔ اجتماعی زندگی میں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ فوری طور پر کیا چیز قابل حصول ہے اور وہ کیا چیزیں ہیں جس کے لئے ہمیں انتظار کی پالیسی اختیار کرنا چاہئے۔ جس شخص کو اجتماعی زندگی کی نزاکتوں کا احساس ہو وہ یقینی طور پر اجتماعی زندگی کے معاملہ میں بے حد حساس ہو جائے گا۔ وہ تجویز پیش کرنے سے پہلے اس کے بارہ میں ہزار بار سوچے گا۔ اس کے برعکس جس شخص کو مذکورہ بالا نزاکتوں کا احساس نہ ہو وہ بے تکان تجویزیں پیش کرے گا۔ اس کی بے حسی اس کے دماغ کو تجویزوں کا کارخانہ بنا دے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page