Al-Risala · September 1985 · page 36

Keep your laws and your morality off my body

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۶

ایک سفر

مئی ۱۹۸۵ کے چند دن مغربی بنگال میں گزرے۔ ۲ مئی کی صبح کو میں آسنول پہنچا۔ ۴ مئی کی صبح کو کلکتہ گیا اور اسی دن شام کو دہلی واپس آیا۔

آسنول مغربی بنگال کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۴۰ فی صد ہے۔ یہاں ان کے دو عربی مدرسے اور دو اسکول ہیں۔ کالج کے قیام کی کوشش ہو رہی ہے تعلیم میں پیچھے ہونے کے باوجود مسلمان عام طور پر خوش حال ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ یہاں وہ فرقہ وارانہ تعصب نہیں پایا جاتا جو یوپی جیسے علاقوں کی خصوصیت ہے۔ ہندوستان ایک ملک نہیں وہ کئی مختلف ملکوں کا مجموعہ ہے۔

آسنول کی اقتصادیات براہ راست یا بالواسطہ طور پر کوئلہ سے وابستہ ہیں۔ یہاں کی اور اس کے آس پاس کی زمین کا زراعت کے لئے ناقص ہونا بتا تا ہے کہ اس کے نیچے خدا نے قیمتی کوئلہ کا خزانہ چھپا دیا ہے جس کی اہمیت کی بنا پر اس کو ’’کالا سونا‘‘ کہا جاتا ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو ایک پہلو سے کم پائے تو اسے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ دینے والے نے کسی دوسرے پہلو سے اس کو زیادہ دیا ہوگا۔

۴ مئی کو۔ ایک بنگالی افسر مسٹر ایس ایس چودھری اور دوسرے احباب کے ہمراہ کوئلہ کی ایک کان دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ہم لوہے کے ایک خانہ میں بیٹھے۔ اسٹیم انجن سے بندھی ہوئی لوہے کی رسی نے ہم کو کنوئیں جیسی گزرگاہ سے نیچے اتارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ہمیں ۲۰۰ فٹ نیچے کی تاریک دنیا میں پہنچا دیا۔ سطح زمین پر بظاہر ہم ایک چھوٹے سے کنوئیں میں داخل ہوتے تھے۔ مگر اندر پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہاں ایک پوری دنیا پھیلی ہوئی ہے۔

کوئلہ دی (کوئلہ کی کان) دیکھنے کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھ پر یہ تاثر ہوا کہ خدا کی حکمتیں بھی کیسی عجیب ہیں۔ سر سبز درختوں اور خوش نما پھولوں کو اس نے سطح زمین پر اگایا اور کالے کوئلہ کی فراہمی اس طرح کی کہ اس کو زمین کے نیچے قدرتی تہہ خانوں میں ذخیرہ کر دیا۔ اگر صورت حال اس کے برعکس ہوتی تو دیکھنے والوں کو یہ دنیا شاید کالے بھوت کی مانند نظر آتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page