پونہ کا پروگرام
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۴۴
پلو نہ اور بھٹکل کے سفر کے دوران لوگوں جو باتیں ہوئیں۔ ۔ ان میں سے بعض یہاں نقل کی جاتی ہیں ایک ، سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جن لوگوں کو کرنا نہیں ہے وہ پروگرام پوچھ رہے ہیں۔ اور جن لوگوں کو کرنا ہے انہیں معلوم ہے کہ ان کا پروگرام کیا ہے۔ پھر میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انگریزی الرسالہ کا اجر اء سب لوگوں کو ایک مکمل پروگرام دے رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انگریزی الرسالہ پورے عالم اسلام کا واحد پر چہ ہے جو انٹرنیشنل زبان میں خالص دعوتی انداز میں نکالا جارہا ہے۔ وہ زبان اور بیان دونوں اعتبار سے پوری طرح قابل اعتماد ہے۔ اب لوگوں کا کام یہ ہے کہ اس کو غیر مسلموں اور انگریزی داں مسلمانوں تک پہنچائیں۔
جو لوگ واقعۃً کچھ کرنا چاہتے ہیں ، وہ انگریزی الرسالہ کی صورت میں اپنا پروگرام پا گئے ہیں۔ اس کو وہ پوری کوشش سے انگریزی داں اور تعلیم یافتہ غیر مسلموں میں پہنچارہے ہیں۔ اگر ان کو خریدار نہ بھی ملے تو وہ خود اپنی طرف سے اس کو خریدتے ہیں اور دعوتی ذمہ داری کے تحت اس کو پھیلا رہے ہیں۔ مگر جن کو کچھ کرنا نہیں ہے وہ ابھی تک پروگرام پوچھ رہے ہیں ۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اپنی بے عملی کا الزام دوسروں کے سر ڈالنا چاہتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے اسلامی قائدین دو قسموں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ ایک وہ جو سمجھتے ہیں کہ شخصیتیں تاریخ بناتی ہیں۔ دوسرے وہ جو سمجھتے ہیں کہ تاریخ بنانے والی چیز نظام ہے۔ ایک گروہ انسانی شخصیتوں میں گم ہے اور دوسرا گروہ سیاسی نظامات میں ۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں جس کو یہ دکھائی دیتا ہو کہ خدا تاریخ بنانے والا ہے۔ لوگ غیر خدا میں گم ہیں۔ کوئی نہیں جو خدا کو دیکھے اور اس میں ہم تن گم ہو جائے۔
فوج کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی۔ بندوق اور شکار پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا " نشانہ لگاتے وقت پر آپ کو پتھر کی طرح ساکت ہو جانا چاہئے" میں نے سوچا کہ یہی معاملہ زندگی کے بقیہ معاملات کا بھی ہے۔ آدمی اگر کسی " نشانہ " کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو بقیہ تمام چیزوں سے صرف نظر کرنا ہوگا۔ جو شخص دوسری چیزوں سے صرف نظر نہ کرسکے ، اس کے حصہ میں صرف یہ آتا ہے کہ کار تو س خالی کرنے کے بعد بھی اس کی گولی نشانہ پر نہ لگے۔
اس سفر کے دوران ایک صاحب نے ایک مسجد کا واقعہ بتایا جس میں بڑی نصیحت ہے، ایک شخص نے اس مسجد میں نماز پڑھی۔ اس کے بعد مسجد کے موذن سے پو چھا کہ مجھے ایک نیا جوتا بنوانا ہے، کسی اچھے جوتے ساز کا پتہ بتاؤ تاکہ میں اس سے اپنا جوتا بنوا سکوں۔ موذن نے امام صاحب کی طرف اشارہ کیا جنہوں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues