پونہ کا پروگرام
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵
نے ابھی ابھی نماز پڑھائی تھی۔
مسافر کو یقین نہیں ہوا۔ مگر جب وہ مسجد کے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ مسجد کے نیچے ایک دکان میں وہی شخص جوتا بنانے میں مشغول ہے جس نے ابھی نماز کے وقت مسجد میں امامت کی تھی۔ مسافر نے دکان میں جاکر امام صاحب سے گفتگو کی اور ان کو اپنے جوتے کا آرڈر دے دیا۔
بتانے والے نے بتایا کہ یہ امام صاحب عام جوتا سازوں سے کافی زیادہ قیمت پر جوتا بناتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے یہاں فرمائش کرنے والوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ کیوں کہ ان کے متعلق لوگوں کو اطمینان ہے کہ ان کا بنایا ہوا جو تاپوری طرح قابل اعتماد ہوگا۔
ہمارے آئمہ اور مدرسین جو امام ابو حنیفہ کے فقہی مسلک پر بہت زور دیتے ہیں اگر وہ امام ابو حنیفہ کے اس معاشی مسلک کو بھی اختیار کر لیں تو ملت کے آدھے جھگڑے اچانک ختم ہو جائیں اور اسی کے ساتھ اس کے آدھے مسائل بھی۔
۳ اکتوبر ۱۹۸۴ کو واپسی ہوئی۔ بمشکل سے منگلور کا سفر سڑک سے طے ہوا۔ اور منگلور سے دہلی کا سفر ہوائی جہاز سے۔ بمبئی میں جہاز بدلنے کے لئے کچھ دیر رکنا پڑا۔
بمبئی کے ہوائی اڈہ پر مسافروں کی بھیڑ نظر آئی۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ تھے جو خلیج کے ملکوں سے کما کر آ رہے تھے اور اپنے وطن کو جانے کے لئے دوسری پرواز کا انتظار کر رہے تھے۔ ان میں سے ہر شخص سب سے زیادہ ان سامانول میں سنہک تھا جن کو وہ اپنے ساتھ لایا تھا اور اب ان کو لے کر جلد از جلد اپنے بیوی بچوں تک پہنچ جانا چاہتا تھا۔
زندگی ایک سفر ہے۔ ہر شخص اپنے آغاز سے انجام کی طرف جا رہا ہے۔ مگر ہر آدمی کے پاس اپنے ساتھ لے جانے کے لئے جاپان اور جرمنی کی مصنوعات ہیں۔ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ یہاں ایک اور چیز ہے جس کو آدمی اپنا زاد سفر بناسکے۔ یہ خدا کی یاد ہے۔ لوگ دنیا کے بازار سے انسانی چیزیں لینے میں اتنا مشغول ہیں کہ انہیں یہاں بکھیری ہوئی لا تعداد خدائی چیزوں کو لینے کی فرصت نہیں۔ عظیم ترین خزانہ سے حقیر ترین چیز لینے کی اس سے زیادہ عجیب مثال کوئی دوسری نہیں ملے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues