Keep your laws and your morality off my body
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۲
باعث وہ ان کو نہیں لے سکتے۔
اس تجربہ کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے تاریخ اسلام کے ایک سوال کا جواب پالیا ہے۔ اسلامی تاریخ کی کتابوں میں اس بات کی تفصیل نہیں ملتی کہ تاریخ اسلام کے بعض بہت بڑے بڑے واقعات کس طرح ظہور میں آئے مثلاً دور اول میں ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں اسلام کی اشاعت، تاتاریوں کا مسلمان ہونا۔ کتابوں سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ واقعات کن لوگوں کے ذریعہ اور کس طرح وقوع میں آئے۔
ان واقعات کے غیر مذکور ہونے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ غیر مشہور لوگوں کے ذریعہ انجام پائے۔ یہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ سیاسی انداز سے کام کرتے ہیں یا جن کا حکمرانوں سے ٹکراؤ پیش آتا ہے وہ بہت جلد شہرت عام حاصل کر لیتے ہیں۔ اشاعت اسلام کے میدان میں کام کرنے والے یہ لوگ چونکہ سیاست و حکومت سے الگ تھے اس لئے وہ غیر مشہور رہ گئے اور اسی طرح ان کے کام کی تفصیلات بھی۔ اکثر زیادہ بڑا کام کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو بظاہر دیکھنے والوں کو بہت چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔
آسنول اور کلکتہ میں جو گفتگوئیں اور تقریریں ہوئیں ۔ ان کا موضوع مشترک طور پر یہ تھا کہ دور جدید میں ہم کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کا مقابلہ روایتی وعظ سے کیا جا سکتا ہے اور نہ پر جوش خطابت سے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایک طرف اسلام کو اس کی اصل حیثیت میں جانیں اور دوسری طرف عصر حاضر کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں۔ دونوں کو بخوبی طور پر جاننے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ دور جدید میں اسلام کو اور مسلمانوں کو اٹھانے کی موثر جدوجہد کی جاسکے۔
قندرل پرچ مشہور بنگالی شاعر قاضی نذر الاسلام کے نام پر حکومت نے قائم کیا ہے۔ یہاں کے اجتماع میں غیر مسلم افراد بھی قابل لحاظ تعداد میں موجود تھے۔ اس مناسبت سے میں نے اس موقع پر اسلام کا اساسی اور عمومی تعارف پیش کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کسی کے لئے بھی اجنبی نہیں۔ وہ ہر آدمی کی فطرت کی آواز ہے۔ اسلام کو اگر مسلمانوں کی قومی سیاست (زیادہ صحیح لفظوں میں جھوٹی سیاست) سے الگ کر دیا جائے تو ہر آدمی محسوس کرے گا کہ اسلام اس کی اپنی چیز ہے، وہ کسی غیر کی چیز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues