Al-Risala · September 1985 · page 44

آسانول میں پروگرام

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۴

۴ مئی ۱۹۸۵ کی شام کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۴۰۲ کے ذریعے میں کلکتہ سے دہلی آرہا تھا کہ راستہ میں عجیب واقعہ پیش آیا جو میرے لئے پہلا تجربہ تھا۔ ہمارا ہوائی جہاز کلکتہ اور دہلی کے درمیان تھا کہ اچانک وہ سخت ہچکولے کھانے لگا۔ اس کی کیفیت ایسی ہوگئی جیسے کوئی کار ایسی سڑک سے گزر رہی ہو جہاں بہت بڑے بڑے گڑھے ہوں اور کار اس میں نیچے اوپر ہونے لگے۔ بار بار جہاز اتنی تیزی سے نیچے جاتا جیسے کہ وہ زمین پر گر پڑے گا۔

یہ کیفیت تقریباً ۲۰ منٹ تک رہی۔ جہاز کے مسافروں میں عجیب بے چینی پھیل گئی۔ میرے قریب کے ایک ”وی آئی پی“ مسافر بار بار جہاز کے عملہ سے ہاتھ کے اشارہ سے پوچھتے تھے اور کہتے تھے How long یعنی یہ کب تک رہے گا۔ تا ہم جہاز کا اسٹاف مطمئن تھا۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ یہ وقتی ہے اور جہاز کچھ دیر کے بعد ہموار ہوائی سطح پر چلنے لگا۔

معمولی طور پر تو جہاز میں اس طرح کے جھٹکے اکثر ہوتے ہیں مگر موجودہ طرز کے شدید جھٹکے صرف کبھی کبھی پیش آتے ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہوا میں متدرتی گڑھے ہیں۔ جب ہوائی جہاز وہاں پہنچتا ہے تو وہ اچانک اس کے اندر گر پڑتا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے بلیریڈ کی گیند ایک دم سے تھیلی میں آگرتی ہے۔ اسی بنا پر اس کو ہوا تھیلی (Air pocket) کہا گیا۔

مگر جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ موسمی اثرات کا نتیجہ ہے۔ ہوا کی حرکت عام طور پر افقی ہوتی ہے ۔ مگر بعض اسباب کے تحت کسی خاص مقام پر اس کی حرکت عمودی (نیچے اوپر) ہونے لگتی ہے۔ یہ کیفیت دوئی نیچے اور پرتک ہوسکتی ہے۔ جب جہاز ایسے مقام پر پہنچتا ہے تو وہ ہوا کے ساتھ اچانک تیزی سے نیچے اوپر ہونے لگتا ہے۔ بلٹا ہرایا معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمین پر گر پڑے گا۔ اس کیفیت کا زیادہ جدید نام Updraft and downdraft ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page