Al-Risala · September 1985 · page 45

آسانول میں پروگرام

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۵

خبر نامہ اسلامی مرکز۔ 11

دہلی ملک کی راجدھانی ہے۔ اس لئے ہندوستان کے ہر حصہ سے روزانہ لاکھوں افراد دہلی آتے ہیں۔ ان میں ایک تعداد وہ بھی ہوتی ہے جو الرسالہ اور اسلامی مرکز کے مشن سے واقف ہے۔ یہ لوگ جب دہلی آتے ہیں تو وہ ملاقات کے لئے اسلامی مرکز بھی آتے ہیں۔ یہ سلسلہ تقریباً روزانہ جاری رہتا ہے۔ اس سے برابر اندازہ ہو رہا رہتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں اسلامی مرکز اور الرسالہ کے مشن کا رد عمل کیا ہو رہا ہے۔ خدا کے فضل سے ملک کے ہر حصہ میں الرسالہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی اہتمام کے ساتھ الرسالہ پڑھتے ہیں جو بظاہر الرسالہ سے غیر متعلق ہیں۔ مہاراشٹر سے آنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ ایک بار انہوں نے اپنے یہاں کے ایک عالم کو دیکھا کہ وہ اپنی تقریر میں الرسالہ کے مضامین بیان کر رہے ہیں۔ حالانکہ بظاہر وہ اپنے آپ کو الرسالہ سے بے تعلق ظاہر کرتے تھے۔ نوجوان نے پوچھا کہ یہ باتیں جو آپ نے بیان کیں یہ سب تو الرسالہ کی باتیں ہیں۔ مذکورہ عالم نے کسی قدر پس و پیش کے بعد اقرار کیا کہ وہ الرسالہ پابندی سے پڑھتے ہیں۔ ہزاروں لوگ ہیں جو اپنی گفتگوؤں ، تقریروں اور تحریروں میں الرسالہ کے مضامین نقل کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ اس کا حوالہ نہیں دیتے۔ اسی طرح ہر جگہ ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو الرسالہ کی پر زور مدافعت کر سکیں۔ برار سے آنے والے ایک صاحب نے بتایا کہ ان کے علاقہ میں کچھ لوگوں نے الرسالہ کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ آپ نے ابھی تک الرسالہ کو سمجھا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ کے مضامین کو نچوڑیں تو اس سے صرف درد نچلے گا۔

الرسالہ خدا کے فضل سے ہر حلقہ اور ہر علاقہ میں کثرت سے پڑھا جانے لگا ہے۔ اس کا ایک اندازہ روزانہ کی ڈاک سے ملنے والے خطوط سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شری منگل سین (دہلی) اپنے خط مورخہ ۴ اپریل ۱۹۸۵ میں لکھتے ہیں: آپ کا ماہنامہ الرسالہ باقاعدگی سے دستیاب ہوتا ہے۔ اور جب یہ پہنچتا ہے تو سارے کام چھوڑ کر اس پر جھپٹ پڑنے کو جی چاہتا ہے۔ کسی سے بات چیت ہو رہی ہو تو فور اًختم کر کے اس کو پڑھنا شروع کر کے تسکین حاصل ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page