Al-Risala · October 1985 · page 2

پردہ پھٹے گا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲

پردہ پھٹے گا

ٹائمز آف انڈیا (۲ جولائی ۱۹۸۵) بیس دہلی کا ایک واقعہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے: اس سے زیادہ کہ ہضم ہو سکے ۔ واقعہ کو ہم اخبار کے اصل الفاظ میں نقل کرتے ہیں : IT'S TOO MUCH TO STOMACH: Narain Das, 20, an alleged chain snatcher, swallowed his loot when he was given the chase in Greater Kailash yesterday. Narain Das removed a gold chain from around the neck of Ms Renu Saxena, a school teacher. According to the police, the incident occurred soon after Ms Saxena got off a bus while return- ing from Andrews Ganj. The suspect followed her for a short distance, Two passer-by, Mr Gian Prakash and Mr Sanjay Dutt Gupta, res- ponding to Ms Saxena's cries, chased and overpowered the suspect. They were amazed when they were unable to find the chain. The mystery was solved when the police took the suspect to the AIIMS where an X-ray revealed the chain in his stomach. رینو سکسینا ایک اسکول میں لیڈی ٹیچر ہیں۔ وہ اینڈر یوز گنج سے واپس آتے ہوئے بس سے اتریں۔ ان کے گلے میں سونے کی زنجیر تھی۔ میں سالہ نرائن داس جو ایک بدنام شخص ہے اس نے رینو سکسینا کا پیچھا کیا اور ان کی زنجیر کھینچ کر بھاگا۔ رینو سکسینہ نے شور کیا۔ ان کے شور کو سن کر مسٹر گیان پرکاش اور مسٹر سنجے دت گپتا نے ملزم کو دوڑایا اور کچھ دور جا کر اس کو پکڑ لیا۔ مگر انہیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ سونے کی زنجیر اس کے پاس موجود نہیں ہے۔ یہ راز اس وقت کھلا جب پولیس نے ملزم کو اپنے قبضہ میں لیا۔ وہ اس کو آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لے گئی۔ وہاں اس کو ایکس رے مشین کے سامنے کھڑا کیا گیا۔ اکسرے نے بتایا کہ سونے کی زنجیر اس کے پیٹ میں موجود ہے ۔ ملزم نے زنجیر کو چرانے کے بعد اس کو نگل لیا تھا ۔

یہ صورت حال جو دنیا میں نظر آتی ہے یہی زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت میں پیش آئے گی ۔ موجودہ دنیا میں لوگوں کے جرائم پر ظاہری پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ مگر آخرت ان پردوں کو کھول دے گی ۔ اس کے بعد وہ سب کچھ صاف دکھائی دینے لگے گا جو دنیا میں لوگوں نے طرح طرح کے پردوں میں چھپا رکھا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page