Al-Risala · October 1985 · page 3

آسان حل

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳

آسان حل

ایک حکیم صاحب تھے۔ ایک شخص ان کے پاس آبا۔ اس کے پاس ایک ڈبہ تھا۔ اس نے ڈبہ کھول کر ایک زیور نکالا۔ اس نے کہا کہ یہ خالص سونے کا زیور ہے۔ اس کی قیمت دس ہزار روپے سے کم نہیں ہے۔ اس وقت مجھے مجبوری ہے۔ آپ اس کو رکھ کر پانچ ہزار روپے مجھے دیجیئے۔ میں ایک ماہ میں روپیہ دے کر اسے واپس لےلوں گا۔ حکیم صاحب نے کہا کہ نہیں، میں اس قسم کا کام نہیں کرتا۔ مگر آدمی نے کچھ اس انداز سے اپنی مجبوری بیان کی کہ حکیم صاحب کو ترس آگیا اور انھوں نے پانچ ہزار روپیہ دے کر زیور لے لیا۔ اس کے بعد انھوں نے زیور کو لوہے کی الماری میں بند کر کے رکھ دیا۔

مہینوں گزر گئے اور آدمی واپس نہیں آیا۔ حکیم صاحب کو تشویش ہوئی۔ آخر انھوں نے ایک روز اس زیور کو لوہے کی الماری سے نکالا اور اس کو بیچنے کے لیے بازار بھیجا۔ مگر سنار نے جانچ کر بتایا کہ وہ پیتل کا ہے۔ حکیم صاحب کو سخت صدمہ ہوا۔ تاہم روپیہ کھونے کے بعد وہ اپنے آپ کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔ انھوں نے اس کو بھلا دیا۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ جس زیور کو وہ اس سے پہلے بند الماری میں رکھے ہوئے تھے اس کو ایک کھلی الماری میں ڈال دیا۔ انھوں نے اس کو سونے کے خانہ سے نکال کر پیتل کے خانہ میں رکھ دیا۔

انسانی معاملات کے لیے بھی یہی طریقہ بہترین طریقہ ہے۔ انسانوں کے درمیان اکثر شکایت اور تلخی صرف اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ ایک آدمی سے ہم نے جو امید قائم کر رکھی تھی اس میں وہ پورا نہیں اترا۔ ہم نے ایک آدمی کو یا اصول سمجھا تھا مگر تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بے اصول ہے۔ ہم نے ایک شخص کو اپنا خیر خواہ سمجھا تھا مگر وہ بد خواہ ثابت ہوا۔ ہم نے ایک شخص کو معقول سمجھ رکھا تھا مگر تجربہ کے بعد وہ غیر معقول نکلا۔

ایسے مواقع پر بہترین طریقہ یہ ہے کہ آدمی کو اس خانہ سے نکال کر اُس خانہ میں رکھ دیا جائے ۔ جس چیز کو ہم نے سونے کی الماری میں محفوظ کر رکھا تھا اس کو اس سے نکال کر پیتل کی الماری میں ڈال دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page