Anthropological Linguistics, Vol. 5, pp. 104-144
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴
حکمت حضرت علی کی نصیحتوں میں سے ایک نصیحت یہ ہے :
كلموا الناس على قدر عقولهم اتريدون لوگوں سے ان کی فہم کے مطابق بات کرو۔ کیا تم چاہتے ان يكذب الله ورسوله ہو کہ اللہ اور رسول کو جھٹلایا جائے۔
بعض باتیں بذات خود صحیح ہوتی ہیں، مگر ان کی گرفت وہی لوگ کر سکتے ہیں جو گہری سمجھ رکھتے ہوں عام لوگ ان کو پکڑ نہیں سکتے۔ ایسی حالت میں بات کرتے ہوئے مخاطب کے معیار فہم کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ۔ سادہ فہم کے لوگوں سے زیادہ گہری قسم کی باتیں کی جائیں تو اندیشہ ہے کہ اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے وہ اس سے متوحش ہو جائیں۔
ایک مرتبہ میں چند آدمیوں کے ساتھ تھا۔ ایک گفتگو کے دوران میری زبان سے یہ فقرہ نکلا :
" خود کفیل زندگی تمام نیکیوں کا آغاز ہے۔ "
یہ سن کر ہمارے ساتھی متوحش ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا بات آپ نے کہدی ۔ ہم تو یہ سمجھتے رہے ہیں کہ ایمان سے نیکیوں کا آغاز ہوتا ہے ۔ اور آپ فرما رہے ہیں کہ خود کفیل زندگی تمام نیکیوں کا آغاز ہے۔
میں ابھی خاموش تھا کہ میرے ایک اور ساتھی نے بات سنبھال لی۔ انھوں نے کہا کہ بھائی یہ حکمت کا کلمہ ہے۔ اس کو قانون کی نظر سے نہ دیکھو بلکہ حکمت کی نظر سے دیکھو۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues