ادبی انقلاب
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۵
ادبی انقلاب
نیوٹن (۱۶۴۲۔ ۱۷۲۷) کی دریافتوں کے نتیجہ میں جو عظیم ذہنی انقلاب ہوا، اس کے بعد یورپ میں ایک ترقی یافتہ تکنیک وجود میں آئی اور پھر مطالعہ کے قطعی طریقے (Exact methods) پیدا ہوئے جن کو مسائل پر منطبق کیا جانے لگا۔ اس نہج نے فلسفہ، الہیات اور سیاسیات کے طریق مطالعہ کو متاثر کیا۔ اس باب میں ہم ادب پر اس انقلاب کے اثرات کا مطالعہ کریں گے۔ سائنسی علم (Scientific knowledge) سے پیدا شدہ صورت حال نے لکھنے والوں پر قابل لحاظ اثر ڈالا ہے۔ شکسپیر (۱۶۱۶ ۔ ۱۵۶۴) جو کچھ پورے اعتماد اور سنجیدگی کے ساتھ لکھ سکتا تھا، وہ ملٹن (۱۶۷۴۔ ۱۶۰۸) کے لئے نا ممکن اور الگزینڈر پوپ (۱۷۴۴۔ ۱۶۸۸) کے لئے ناقابل قیاس تھا، اگر چہ ادبی صلاحیتوں (Literary talents) کے اعتبار سے تینوں یکساں بلندی کے انسان تھے ۔ شکسپیر کو تینوں میں سب سے اونچا مقام حاصل ہوا۔ اس کی کم کم جزئی وجہ یہ تھی کہ اسے ایک خوش قسمت عہد (Fortunate period) ملا۔ وہ انگریزی زبان کے ایک عظیم دور کے آغاز میں اور عظیم ذہنی انقلاب سے پہلے پیدا ہوا۔ جس زمانہ میں اس نے اپنی تحریریں لکھیں، اس وقت استعاراتی انداز از اہمیت رکھتا تھا جو نیوٹن کے بعد اسے پھر حاصل نہ ہو سکا۔
تمثیل موجودہ زمانہ میں دو قسم کی ہو سکتی ہے۔ ایک تمثیل وہ ہے جو سائنس داں کے لئے عملی نمونہ (Working model) کا کام دیتی ہے۔ ایٹم کا قدیم تصور کہ وہ بالکل گول ہے، انتہائی سخت ہے۔ اسی قسم کا ایک ماڈل تھا ۔ بعد کو ردر فورڈ (۱۹۳۷ ۔ ۱۸۷۱) کا ایٹمی تصور بھی اس کی ایک مثال تھا جس کے مطابق اس کے اندر ایک ایٹمی نیوکلیں تھا جو مثبت برقی چارج رکھتا تھا اور اس کے گرد الیکٹرون (Electron) سیاروں کی طرح حرکت کر رہے تھے۔ تمثیل کی یہ قسم تجربات سے حاصل شدہ علم کے خلاصہ کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اگر اندازے پورے اتریں تو ماڈل باقی رہتا ہے۔ اور اگر اندازے پورے نہ ہوں تو ماڈل کی یا تو تصحیح کی جاتی ہے یا اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔
ادبی کنایہ (Literary analogy) جو عام طور پر تشبیہ کی شکل میں ہوتا ہے، اس کا مقصد بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہ اس لئے وضع کیا جاتا ہے کہ قاری کو ایک بیان کی صداقت کے بارہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues