Al-Risala · October 1985 · page 23

ایک انگریزی کتاب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳

" وہ غار میں محو خواب تھے لیکن صورت حال ایسی تھی کہ اگر اتفاق سے کوئی ان کو دیکھ پاتا تو یہ گمان نہ کرتا کہ وہ سورہے ہیں بلکہ وہ یہی سمجھتا کہ جاگ رہے ہیں۔ یعنی ان کو سوتا اور بے خبر سمجھ کر کوئی ان کو نقصان پہنچانے کی جرات نہ کر سکتا بلکہ ان کو اپنی حفاظت کے لیے بیدار وہوشیار خیال کرتا۔ ان کے سونے کی ہیئت ایسی تھی کہ معلوم ہوتا کہ کچھ لوگ ذرا دم لینے کے لیے بس لیٹ گیے ہیں۔ ایسی نہیں کہ دیکھنے والا سمجھے کہ انسٹاغفیل پڑ کر سورہے ہیں " اوپر کی عبارت میں خط کشیدہ لفظ پر غور کیجیے۔ یہ خالص لغوی معنی کے اعتبار سے درست ہے ۔ مگر تفسیر قرآن اور اصحاب کہف کے تذکرہ میں اس لفظ کا استعمال قطعا موزوں نہیں ۔ موضوع کے اعتبار سے یہ رجسٹر سے باہر کا لفظ ہے جس کو یہاں بے تکلف استعمال کیا گیا ہے۔ راقم الحروف کی کتاب ” پیغمبر انقلاب “ میں صفحہ ۶۲ پر حضرت اسامہ بن زید کی مہم کا ذکر ہے۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کو اس کی اہمیت کا اتنا زیادہ احساس تھا کہ آپ " لشکر کو خود رخصت کرنے کے لیے پیدل چل کر رشک بار گاہ تک پہنچے اسامہ بن زید کو ان کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا۔ جب اسامہ اپنی سواری پر چلے تو حضرت ابو بکر صدیق بھی ساتھ ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلنے لگے "

اس عبارت کے آخری فقرہ کا انگریزی ترجمہ ایک صاحب نے ان الفاظ میں کیا : With Usamah aloft on his mount, the Caliph of the Muslims walked alongside, chatting with him. یہاں Chatting کا لفظ خالص لغت کے اعتبار سے غلط نہیں ہے ۔ مگر وہ استعمال کے اعتبار سے سراسر غلط ہے ۔ کیوں کہ Chatting کا لفظ انگریزی زبان میں غیر سنجیدہ گفتگو کے لیے مستعمل ہے نہ کہ خلیفہ اسلام جیسی مقدس شخصیت کی سنجیدہ گفتگو کے لیے ۔

ایک انگریزی کتاب

موجودہ زمانہ میں الفاظ کے رجسٹر کے موضوع پر بڑی بڑی تحقیقی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں ہم ہاروڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈوائٹ بولنگر کی کتاب کا حوالہ دیں گے جو کہ حسب ذیل ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page