Al-Risala · October 1985 · page 22

الفاظ کا رجسٹر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۲

کی اصلاح فرمائی ۔

کسی تحریر یا تقریر میں الفاظ کی موزونیت (Appropriateness) بے حد اہم چیز ہے۔ ہر تقریر یا تحریر کا کوئی محل ہوتا ہے، اور اسی کے لحاظ سے اس کے لیے موزوں یا غیر موزوں الفاظ ہوتے ہیں۔ جدید علم اللسان میں اس کو الفاظ کا رجسٹر (Register) کہا جاتا ہے ، ہر زبان میں استعمال کے اعتبار سے الفاظ کے مختلف ’’ رجسٹر ‘‘ ہوتے ہیں۔ ایک لفظ ایک موقع کے لیے درست ہوتا ہے ، مگر وہی لفظ کسی دوسرے موقع کے لیے درست نہیں ہوتا۔ اس لیے لکھنے یا بولنے والے کو چاہیے کہ وہ اس فرق کو جانے ۔ وہ جس موضوع پر لکھ یا بول رہا ہے اس کے رجسٹر سے اپنے لیے الفاظ کا انتخاب کرے ۔ - اسلام دین کا مل ہے۔ اس میں ہر معاملہ کے بارہ میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ مذکورہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ اسلام میں اس لسانی مسئلہ کو بھی بتا دیا گیا کہ الفاظ کا رجسٹر ہوتا ہے اور آدمی کو چاہیے کہ وہ رجسٹر کے لحاظ سے موضوع کلام کے مطابق الفاظ استعمال کرے ۔ وہ رجسٹر کے باہر کے الفاظ استعمال کرنے سے پر ہیز کرے ۔ چند مثالیں یہ کسی ایک زبان کی بات نہیں ۔ بلکہ اس اصول کا تعلق ہر زبان سے ہے۔ ہر زبان میں ایسا ہوتا ہے کہ بعض الفاظ استعمال کے اعتبار سے کسی متعین مفہوم کے لیے خاص ہو جاتے ہیں ایسے الفاظ کے سلسلے میں ضروری ہے کہ صرف ان کا لغوی مفہوم نہ دیکھا جائے بلکہ ان کا استعمالی مفہوم بھی دیکھا جائے اور ان کو لکھتے یا بولتے ہوئے ان کے استعمالی مفہوم کا لحاظ رکھا جائے ۔

اوپر ہم نے عربی زبان کی مثال نقل کی ہے ۔ اب ذیل میں اردو اور انگریزی زبان کی ایک ایک مثال نقل کی جاتی ہے ۔

سورہ کہف ( آیت ۱۸) میں اصحاب کہف کے سونے کی کیفیت بیان ہوئی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خصوصی انتظام تھا۔ چنانچہ اس کی تشریح کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر " تدبر قرآن " میں لکھتے ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page