Al-Risala · October 1985 · page 25

ایک انگریزی کتاب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵

مگر مذکورہ فقرہ میں worry کا استعمال درست نہیں۔ کیوں کہ سیکرٹری کسنجر کے ساتھ Apprehensive کا لفظ ان کے ڈپلومیٹ ہونے کی حیثیت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جب کہ worried کے لفظ میں ان کی حیثیت ایک عام انسان جیسی ہو کر رہ جاتی ہے۔ جس طرح مختلف مواقع کے لیے استعمال کی زبان الگ الگ ہوتی ہے، اسی طرح مذہبی کلام اور غیر مذہبی کلام کے لیے بھی الفاظ کا رجسٹر الگ الگ ہوتا ہے۔ جدید ترقی یافتہ زبانوں کے اچھے مصنفین اس معاملہ میں بہت محتاط ہوئے ہیں۔ وہ جس موضوع پر لکھتے ہیں اسی کے رجسٹر سے اپنے لیے الفاظ لیتے ہیں۔ وہ کبھی دوسرے موضوع کے رجسٹر سے الفاظ لینے کی غلطی نہیں کرتے۔

بدقسمتی سے اردو زبان ابھی اس معاملہ میں بہت پیچھے ہے۔ یہاں کسی چیز کا کوئی معیار نہیں حتی کہ بڑے بڑے مشہور مصنفین بھی اس طرح لکھتے ہیں جیسے کہ وہ اس بات کو جانتے ہی نہ ہوں کہ الفاظ کا الگ الگ رجسٹر ہوتا ہے۔ اور کسی موضوع پر لکھتے ہوتے آدمی کو اسی رجسٹر سے الفاظ لینے چاہئیں جو اس کے موضوع سے مطابقت رکھتے ہوں۔ تفسیر قرآن قرآن کی تفسیر بلا شبہ سب سے زیادہ مقدس موضوع ہے۔ تفسیر کی کتاب میں اس قسم کا لسانی عیب قطعاً نہیں ہونا چاہیے ۔ مگر اردو زبان میں معیار بندی نہ ہونے کا یہ نتیجہ ہے کہ تفسیر کی کتابیں بھی اس سے خالی نہیں۔ اس سلسلہ میں ڈپٹی نذیر احمد مرحوم کا ترجمہ سب سے زیادہ واضح مثال ہے۔ اس میں تقریباً صفحہ صفحہ پر اس قسم مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں کہ مترجم نے رجسٹر سے باہر کے الفاظ کو قرآنی آیات کے ترجمہ کے لیے استعمال کیا ہے۔ تاہم دوسرے نسبتاً محتاط مفسرین کی کتابیں بھی اس عیب سے خالی نہیں۔ یہاں ہم چند مشہور مفسرین قرآن کی مثال سے اس معاملہ کو واضح کریں گے ۔ آئندہ جو اقتباسات دیے جارہے ہیں ان میں نشان زد الفاظ پر غور کیجئے ۔ یہ واضح طور پر تفسیر کی زبان کے لیے موزوں نہیں۔ یہ رجسٹر سے خارج الفاظ ہیں جن کو مقدس کلام کے ترجمہ و تشریح کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page