Al-Risala · October 1985 · page 26

تفہیم القرآن کی مثال

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۶

سورہ کہف ( آیت ۵۰) میں شیطان کی ذریت ( وذريته ) کا لفظ ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ان الفاظ میں کیا ہے : " سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے ، وہ جنات میں سے تھا ۔ سو اس نے اپنے رب کے حکم سے عدول کیا۔ سو کیا پھر بھی تم اس کو اور اس کے چیلے چانٹوں کو دوست بناتے ہو مجھ کو چھوڑ کر ، حالاں کہ وہ تمہارے دشمن ہیں "

سورہ مائدہ ( آیت ۳۸) میں سارق اور سارقہ کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ مولانا عبد الماجد دریا بادی نے ان الفاظ میں کیا ہے : " اور چوتے اور چوٹی دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو ۔ ان کے کرتوتوں کے عوض میں ، اللہ کی طرف سے بطور عبرت ناک سزا کے ۔ اور اللہ بڑا قوت والا ، بڑا حکمت والا ہے " سورہ النور ( آیت ۳۲) میں نکاح کا ایک حکم ہے۔ اس کا ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی نے ان الفاظ میں کیا ہے :

" اور اپنی رانڈوں اور رنڈوؤں اور ذی صلاحیت غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرو۔ اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ بڑی سمائی رکھنے والا اور علم والا ہے ۔ "

تفہیم القرآن کی مثال

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی " تفہیم القرآن " اردو تفسیر کی مشہور کتاب ہے۔ مگر اس میں کثرت سے ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جن میں " رجسٹر " سے انحراف کیا گیا ہے۔ ذیل میں ہم تفہیم القرآن سے کچھ مثالیں پیش کریں گے ۔

۱۔ سورہ نساء ( آیت ۱۵۷) میں یہود کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو قتل کیا ہے ۔ اس آیت کے تحت تفہیم القرآن میں جو حاشیہ ہے اس کا ایک فقرہ یہ ہے :

" (حضرت یحییٰ) نے دربار کی برائیوں پر تنقید کی تو اسے برداشت نہ کیا گیا ۔ پہلے جیل بھیجے گئے ۔ اور پھر والی ریاست کی معشوقہ کے مطالبے پر ان کا سر قلم کر دیا گیا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page