تمہاری مدد کروں گا ،،
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۳
دوسروں کے سامنے نمایاں کرے ۔ تیسرے یہ کہ وہ اپنی چال ڈھال اور چمک مٹک سے اپنے آپ کو نمایاں کرے ۔
۲۱ ۔ سورہ حم السجدہ کے دیباچہ میں صاحب تفہیم نے سورہ کے موضوع اور مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے :
بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جس کے ساتھ ایسے شیاطین جن و انس لگ جائیں جو اسے ہر طرف ہرا ہی ہرا دکھاتے رہیں ۔ اس کی حماقتوں کو اس کے سامنے خوشنما بنا کر پیش کریں اور اسے کبھی نہ خود صحیح بات سوچنے دیں نہ کسی دوسرے سے سننے دیں۔ اس طرح کے نادان لوگ آج تو یہاں ایک دوسرے کو بڑھاوے چڑھاوے دے رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کی شہہ پا کر پہلے پر دہلا مار رہا ہے ۔ مگر قیامت کے روز جب شامت آئے گی تو ان میں سے ہر ایک کہے گا کہ جن لوگوں نے مجھے بہکایا تھا وہ میرے ہاتھ لگ جائیں تو انھیں پاؤں تلے روند ڈالوں گا ، اوپر جو اقتباسات نقل کیے گئے ہیں ان میں نشان زد جملوں پر غور کیجیے ۔ یہ جملے اگر چہ قواعد کی رو سے درست ہیں مگر اُسلوب کے اعتبار سے یقیناً وہ موزوں نہیں ۔ یہ بازار میں بولی جانے والی زبان ہے نہ کہ وہ زبان جو قرآن کی تفسیر میں لکھی جائے ۔ ڈکشنری میں اگر چہ تمام الفاظ ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں ۔ مگر جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ، استعمال کے اعتبار سے الفاظ کا الگ الگ " رجسٹر " ہوتا ہے ۔ آدمی جس موضوع پر لکھ رہاہو ، اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اسی موضوع کے رجسٹر سے وہ اس کے مطابق الفاظ کا انتخاب کرے ۔ مذکورہ اقتباسات بتاتے ہیں کہ تفہیم القرآن کے مصنف اگر چہ تفسیر قرآن کے موضوع پر لکھ رہے تھے مگر متعدد مقامات پر انھوں نے ایسے غیر متعلق رجسٹر سے الفاظ لے لیے جو تفسیر کے مقدس موضوع سے مناسبت نہیں رکھتے تھے ۔
( باقی )
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues