Al-Risala · October 1985 · page 32

تمہاری مدد کروں گا ،،

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۲

" حضرت موسیٰ نے قومِ فرعون کے ایک شخص کو ایک اسرائیلی سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے وہ مر گیا۔ پھر جب حضرت موسیٰ کو معلوم ہواا کہ اس واقعہ کی اطلاع قومِ فرعون کے لوگوں کو ہو گئی ہے اور وہ بدلہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں تو وہ ملک چھوڑ کر مدین کی طرف فرار ہو گئے تھے۔ اب جو آٹھ دس سال کی رو پوشی کے بعد یکایک انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم پیغامِ رسالت لے کر اسی فرعون کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں تمہارے خلاف قتل کا مقدمہ پہلے سے موجود ہے تو حضرت موسیٰ کو بجا طور پر یہ خطرہ ہو کہ پیغام سنانے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ تو مجھے اس قتل کے الزام میں پھانسی دے گا ۔ "

۱۹ - سورہ لقمان ( آیت ۳۲ ) میں ارشاد ہوا ہے کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کی کشتی سمندر کے طوفان میں گھر جاتی ہے تو وہ یکسو ہو کر خدا کو پکارنے لگتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ ان کی کشتی کو طوفان سے بچا کر ساحل پر پہنچا دیتا ہے تو وہ دوبارہ غافل اور سرکش بن جاتے ہیں ۔ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن لکھتے ہیں :

" وہ خطرے کا وقت ٹل جانے کے بعد بے تکلف اپنے کفر، اپنی دہریت اور اپنے شرک کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں مانتے کہ انھوں نے طوفان کی حالت میں خدا کے ہونے اور ایک ہی خدا کے ہونے کی کچھ نشانیاں خارج میں بھی اور اپنے نفس میں بھی پائی تھیں اور ان کا خدا کو پکارنا اسی وجدانِ حقیقت کا نتیجہ تھا۔ ان میں سے جو دہریے ہیں وہ اپنے اس فعل کی یہ توجیہہ کرتے ہیں کہ وہ تو ایک کمزوری تھی جو بحالتِ اضطراب ہم سے سرزد ہو گئی۔ ورنہ درحقیقت خدا ودا کوئی نہ تھا جس نے ہمیں طوفان سے بچایا ہو۔ ہم تو فلاں فلاں اسباب وذرائع سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔ "

۲۰۔ سورہ احزاب ( آیت ۳۳ ) میں ازواجِ رسول کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لوگ گھروں میں وقار کے ساتھ رہو اور تبرج جاہلیت کا طریقہ مت اختیار کرو۔ اس سلسلہ میں صاحب تفہیم اپنے تفسیری نوٹ میں لکھتے ہیں :

" عورت کے لیے جب لفظ "تبرج" استعمال کیا جائے تو اس کے تین مطلب ہوں گے ۔ ایک یہ کہ وہ اپنے چہرے اور جسم کا حسن لوگوں کو دکھائے۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنے لباس اور زیور کی شان

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page