تمہاری مدد کروں گا ،،
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۵
آپ کی لائی ہوئی ہدایت کو تمام دنیا کے انسانوں تک پہنچنا ہے ۔ اس لیے آپ کی بعثت کے بعد آنے والے دور میں خدا نے سفر اور پیغام رسانی کے معاملہ کو انتہائی سریع بنا دیا تاکہ آپ کے امتی ان کو استعمال کر کے آپ کی ہدایت کو بہ سہولت سارے عالم تک پہنچا سکیں ۔ ان تیز رفتار مواصلاتی ذرائع کے دنیوی فائدے بھی ہیں ۔ مگر وہ مزید عنایت کے طور پر حاصل ہوئے ہیں نہ کہ انھیں دنیوی فائدوں کے لیے یہ ذرائع کھولے گئے ہیں ۔
بمبئی ہندوستان کی تجارتی راجدھانی ہے بمبئی اتنا بڑا ہے کہ وہ بذات خود ایک ملک معلوم ہوتا ہے ۔ بمبئی کے حجم کا اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہاں ۲۰ لاکھ انڈے روزانہ کھائے جاتے ہیں ۔ خوش قسمتی سے بمبئی میں مسلمان نسبتاً کافی اچھی حالت میں ہیں۔ یہاں ان کی معقول تعداد آباد ہے ۔ تجارتوں میں وہ قابلِ لحاظ حیثیت رکھتے ہیں ۔ بڑی تعداد میں ان کے تعلیمی اور سماجی ادارے اور کالج اور اسپتال قائم ہیں ۔ وغیرہ ایک صاحب نے فرمایا کہ بمبئی کے مسلمانوں کے پاس سب کچھ ہے ۔ مگر ان کی کمی یہ ہے کہ ان کی کوئی لیڈر شپ نہیں ۔ اسی کمی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہاں انفرادی سطح پر جو مواقع انھیں حاصل ہیں ، ان کے لحاظ سے وہ اجتماعی کامیابی اپنے لیے حاصل نہ کر سکے ۔ میں نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ لیڈر نہیں اس لیے لیڈر شپ نہیں ۔ مگر بات اس کے بالکل برعکس ہے ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کی خود سری انھیں کسی لیڈر شپ کو قبول نہیں کرنے دیتی ۔ اسی لیے ان کا کوئی لیڈر بھی نہیں ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ خود سر قوم بن گئے ہیں ۔ اور یہی ان کے درمیان کوئی حقیقی لیڈر شپ پیدا نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔
مسلمان صرف اس لیڈر کا ساتھ دے سکتے ہیں جو ان کا ساتھ دے۔ جو لیڈر ان کی خواہشات کا ساتھ نہ دے ، مسلمان بھی اس کو اپنا لیڈر بنانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ قریبی ماضی کی تاریخ اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے ۔
بمبئی کی آبادی تقریباً ۸۰ لاکھ ہے۔ اس میں ایک تہائی مہاراشٹری ہیں اور دو تہائی بیرونی ریاستوں کے لوگ ہیں ۔ مسلمان تقریباً ۲۰ فی صد ہیں ۔ تاہم " جھگی جھونپڑی " کے باشندوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues