تمہاری مدد کروں گا ،،
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۶
میں ان کا تناسب ۵۰ فی صد تک پہنچ جاتا ہے ۔
بمبئی ایک صنعتی شہر ہے ۔ مگر یہاں کی صنعتوں میں مسلمانوں کا حصہ غالباً ایک فی صد سے بھی کم ہوگا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی یہ کمی ہے کہ وہ مل کر کام نہیں کر سکتے ۔ جدید دور کی صنعت مشترکہ سرمایہ پر قائم ہوتی ہے ۔ مسلمانوں کے پاس الگ الگ اتنا سرمایہ ہے کہ اگر وہ جمع ہو سکے تو بہت بڑی بڑی صنعتیں قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے ، مگر مشترکہ کام کرنے کے لیے برداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کو آج مسلمان سب سے زیادہ کھوتے ہوتے ہیں ۔
ایک صاحب نے کہا کہ مشترکہ سرمایہ کی کمپنیوں میں مسلمانوں کا کم حصہ ہونے کی وجہ اسلام کے قوانین ہیں ۔ اسلام میں سود حرام ہے حالانکہ سود ہی کی بنیاد پر بنک قائم ہوتے ہیں اور بنک سے سودی رقم لے کر تمام بڑی بڑی کمپنیاں شروع ہوتی ہیں۔ مسلمان سودی قرض کو حرام سمجھتے ہیں اسی لیے وہ بڑے کارخانے بھی قائم نہیں کر پاتے۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ سود اسلام میں حرام ہے مگر امداد باہمی کی انجمن (کوآپریٹیو سوسائٹی) بنانا تو حرام نہیں۔ پھر مسلمان ایسا کیوں نہیں کرتے کہ امداد باہمی کی انجمنوں میں اپنی رقمیں جمع کریں اور اس کے ذریعہ سے مشترکہ سرمایہ کی کمپنیاں قائم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی صنعتی پسماندگی کی وجہ ان کی بے اتحادی ہے نہ کہ سود کا مسئلہ ۔ آج ہر جگہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ معمولی سی خلاف مزاج بات پر بے برداشت ہو جاتے ہیں ۔ زندگی برداشت کا امتحان ہے اور برداشت کا سرمایہ ان کے پاس موجود نہیں ۔ مسلمانوں کی ’’مظلومی‘‘ ان کے بے برداشت ہونے کی قیمت ہے جس کو آج وہ ساری دنیا میں بھگت رہے ہیں ۔ اور ان کی یہی کمی ہے جو ان کے لیے جدید صنعتی دنیا میں داخلہ میں رکاوٹ بن گئی ۔
بمبئی کی یہ خصوصیت ہے کہ یہاں ایک مسلمان عبدالرحمن انتولے کو ریاست کا وزیر اعلیٰ (۸۳۔ ۱۹۸۰) بننے کا موقع ملا۔ عام طور پر لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا دور نہایت اچھا تھا۔ انھوں نے بہت سے مفید کام کیے ۔ انھوں نے راتوں کو جوا، شراب وغیرہ کے اڈوں پر چھاپہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues