Al-Risala · November 1985 · page 3

اندازِ کلام

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳

اندازِ کلام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بولنے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ واضح انداز میں بولتے تھے اور الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر ادا فرماتے تھے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بعد کے زمانہ کے لوگوں سے فرمایا :

ما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح تیز تیز يَسْرُدُ كَسَرْدِكُمْ۔ ولكن يتكلم بكلام نہیں بولتے تھے۔ بلکہ آپ کے کلام میں فصل ہوتا بين فصل يحفظه من جلس اليه (زاد المعاد) تھا، آپ کے پاس بیٹھا ہوا آدمی اس کو یاد کر لیتا تھا۔

ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں :

ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تیز تیز باتیں نہیں يسرد الحديث كسردكم ۔ كان يحدث کرتے تھے جیسے تم کرتے ہو۔ آپ اس طرح بات حديثا لو عده العاد لأحصاه (متفق علیہ) کرتے تھے کہ اگر گننے والا گنے تو اس کو گن لے۔ مومن کا کلام ایک ایسے شخص کا کلام ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ مومن کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا ہر لفظ فرشتے لکھ رہے ہیں۔ وہ اپنے ہر قول کے لیے خدا کے یہاں جواب دہ ہونے والا ہے مومن کا یہ یقین اس کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کر دیتا ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ خدا اور فرشتوں کے سامنے بول رہا ہے۔ یہ تصور اس کی زبان پر لگام لگا دیتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو الفاظ تول کر اپنے منہ سے نکالتا ہے۔ خدا کا خوف اس سے تیز کلامی کا انداز چھین لیتا ہے۔ آخرت کی جواب دہی کا احساس اس کی جوش تقریر کے لیے رکاوٹ بن جاتا ہے۔

جو شخص اس قسم کے شدید احساسات سے دبا ہوا ہو وہ آخری حد تک سنجیدہ انسان بن جاتا ہے اور سنجیدہ انسان کی گفتگو کا انداز وہی ہوتا ہے جس کا نقشہ حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت میں نظر آتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page